تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 334 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 334

لعالم سلالم سلام تحریک کے راستہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔پبلک کی ہمدردیاں آزاد ملکوں میں ہمیشہ ایسے ممالک کے حق میں جاتی ہیں جن سے کہ ان کا کوئی تعلق ہوتا ہے انگلستان، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے ممالک با وجود اس کے کہ ان کی حکومتیں بعض جگہوں میں شامل نہیں ہوئیں دو جنگ کرنے والے فریق میں سے ایک کی مدد کرتی رہی ہیں۔اگر پاکستان کی آبادی بھی اسی طرح کشمیر کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والوں کی مدد کرے تو وہ اپنے جائز حقوق سے کام لیتی ہے۔اور اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔کشمیر کا پاکستان کے ساتھ ملنا یا گلی طور پر آزاد ہونا لیکن پاکستان کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات کا ہونا پاکستان کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے۔اس کے بغیر پاکستان ہرگز زندہ نہیں رہ سکتا۔پس کوئی ایسی تجویز جو اس کے مخلاف ہو ، وہ ہرگزہ پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے" اگر کشمیر پاکستان کے لئے رگ جان کی حیثیت مش فلسطین سے متعلق سید نا اصلح الموعود رکھتا ہے تو فلسطین پورے عالم اسلام کی زندگی کے دو معرکۃ الآراء مضامین اور موت کا سوال ہے۔مسئله فلسطین یکم دسمبر ۴۷ امر کو ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوا ، جبکہ امریکہ اور روس دونوں کی متفقہ کوشش سے جنرل اسمبلی نے تقسیم فلسطین کا ظالمانہ فیصلہ کر دیا۔سيدنا المصلح الموعود نے تقسیم فلسطین کے پس منظر کو بے نقاب کرنے کے لئے دو معرکة الآداء مضامین لکھے جن میں سے ایک فیصلہ تقسیم سے قبل ۲۸ نومبر کو شائع ہوا۔اور دوسرا دیں روز بعد امرد گھبر کو بحضور نے ان مضامین میں نہایت شرح وبسط سے بدلائل ثابت کیا کہ یہودیوں کی فلسطین میں آبادی روس، امریکہ اور برطانیہ تینوں کی پرانی سازش کا نتیجہ ہے۔گو یہ طاقتیں اپنے سیاسی اغراض کے لئے ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار نظر آتی ہیں مگر مسلم دشمنی کے مقصد میں سب مشترک ہیں عربوں اور مسلمانوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ہے مسلمان صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا له الفضل» ۳۰ نبوت / نومبر مش صفحه ۳ : "1