تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 333
۳۳۲ مناکشیاااااااااا پاکستانی پر میں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ کشمیر کے بارہ میں حکومت کستان اور حکومت ہندوستان کے ساتھ مفاہمت کی کوئی گفتگو کے خلاف احتجاج جاری ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی بنیاد کے لئے شرائط صلح بھی متعین ہو چکی ہیں۔سید نا لمصلح الموعود نے اس صورت حال کو مسلمانان کشمیر کے لئے سخت تشویشناک قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا :- " آج کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے متعلق صلح کی گفتگو ہو رہی ہے اور یہ بھی انہی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں شیخ عبداللہ صاحب کو اس غرض کے لئے بلایا گیا ہے۔خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صلح اس اصول پر ہو رہی ہے کہ پاکستان زور دے کر قبائلی لوگوں کو واپس کرا ہے۔ہندوستان کی فوج کی واپسی کا کوئی ذکر نہیں۔مسٹر گاندھی بھی بہت خوش نظر آتے ہیں کہ صلح کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔اور ان کا خیال ہے کہ لارڈ مونٹ بیٹن کی کوشش سے ہندوستان میں امن کے قیام کی صورت نکل آئے گی۔شرار صلح جو بتائی گئی ہیں وہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک ہیں کشمیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں کی ہیں وہ ایسی نہیں کہ ان کو یونہی نظر انداز کر دیا جائے۔خصوصاً پونچھ کے مسلمانوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے۔کوئی ایسا سمجھوتہ جو اُن کے حقوق کی حفاظت نہ کرے یقیناً پونچھ کے بہادر جانبازوں کی زندگی ختم کرنے والا ہو گا۔اس جنگ کے بعد اگر کشمیر پر کوئی ایسی حکومت قابض ہوئی جو ڈوگرہ راج کے تسلسل کو جاری رکھنے والی ہوئی یا جس میں آزاد مسلمانوں کا عنصر بڑی بھاری تعداد میں نہ ہوا تو پونچھ ، میر پور اور ریاسی کا بہادر مسلمان ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔وہ کسی صورت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔خدا کرے یہ خبر غلط ہو۔لیکن چونکہ پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے غلہ کوئی اعلان نہیں ہوا۔اس لئے ہمیں شبہ ہے کہ یہ خبر اگر ساری نہیں تو کچھ حصہ اس کا ضرور سچا ہے۔پاکستان گورنمنٹ نے بار بار اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کی جد و جہد میں حصہ نہیں لے رہی۔اور اگر یہ بات درست ہے تو پاکستان گورنمنٹ کو آزاد کشمیر