تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 332
٣٣١ سوچنے کے لئے گویا وقف ہو گئے تھے۔سردیاں آپہنچی تھیں۔اور اگرچہ تحریک کشمیر میں کام کرنے والے لوگ جو منظفر آباد ، پونچھ ، ریاسی، میر پونے اور سرھند کے باشندے تھے، برفانی علاقوں کے تھے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ موزون لباس کے بغیر ان علاقوں میں بعد و جہد آزادی بھاری نہیں رکھ سکتے تھے اور انہیں گرم جوابوں ، گرم سویٹروں، بوٹوں ، بیٹیوں اور بھاری کمبلوں کی فوری ضرورت تھی۔لہذا حضور نے ۱۲ نبوت نومبر ہی کے الفضل میں مجاہدین کشمیر کے لئے اعانت کی پرزور اپیل فرمائی۔پچنا نچہ فرمایا۔" کشمیر کا مستقبل پاکستان کے مستقبل سے وابستہ ہے۔آج اچھا کھانے اور اچھا پہننے کا سوال نہیں۔پاکستان کے مسلمانوں کو خودہ فاقے رہ کر اور ننگے رہ کو بھی پاکستان کی مضبوطی کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور جیسا کہ ہم اُوپر بتا چکے ہیں۔پاکستان کی مضبوعلی کشمیر کی آزادی کے ساتھ وابستہ ہے۔ہم تمام پاکستان کے رہنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آزادی کشمیر کی جد وجہد میں حصہ لینے والوں کی کمبلوں ، گرم کوٹوں، برساتی کوٹوں ، زمین پر بچھانے والی ہر ساتیوں ، برفانی بوٹوں ، گرم جوابوں اور گرم سویٹروں سے امداد کریں۔یہ چیزیں کچھ تو ان دوکانوں سے بہتا کی جاسکتی ہیں جنہوں نے گذشتہ زمانہ میں ڈسپوزل کے محکمہ سے سامنے خریدا تھا اور کچھ سامان ابھی ڈسپوزل کے سٹوروں میں پٹا ہو گا جو ملک کے پاس فروخت کرنے کے لئے ہے۔وہاں سے بھی سامان خریدا جا سکتا ہے اور کچھ سامان خود سر بعد کشمیر اور پونچھ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے صحیح جگہ پر روپیہ بھجوا دینا نہایت ضروری ہے۔ہم پاکستان کے تمام اخباروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے خریداروں سے روزانہ اس کام کے لئے چندہ کی اپیل کریں یا سارے اختیار مل کر ایک کمیٹی بنالیں جو مشترکہ طور پر روپیہ جمع کرنے اور ایسے ضروری سامان خرید سے جو مغربی پاکستان میں ملی سکتے ہیں۔اور جو مغربی پاکستان میں نہیں مل سکتے لیکن خود کشمیر، پونچھ اور سرحد میں مل سکتے ہیں ان کے لئے روپیہ عارضی حکومت کو بھجوائیں یا عارضی حکومت کی ان شاخوں کو بھجوائیں۔جو ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہی ہیں “ لے ل الفضل ار نبوت نومبر د مش صفحه ۲ کالم ۴۰۳* +1912