تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 331
۳۳۰ جائے تو وہاں سے روپیہ اور اسلحہ شمال مغربی صوبہ میں پھیلایا جائے اور سر بعد پارہ کے قبائل میں پھیلایا جائے۔اس اسلحہ اور روپیہ کے قبول کرنے کے لئے زمین تیار ہے، اور اس اسلحہ اور روپیہ کو پھیلانے کے لئے بھی آدمی میسر ہیں۔جب یہ سکیم مکمل ہو بجائے گی تو ادھر سے سرحد میں بغاوت کرا دی بجائے گی۔ادھر سے فقیر ایپی کے ساتھی سرحدی صوبہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور تیسری طرف کشمیر کی طرف سے ڈوگر سے اور سیکھ سپاہی فوج سے پوری بھاگ کر ضلع ہزارہ اور راولپنڈی پر حملے شروع کر دیں گے۔نتیجہ ظاہر ہے۔پاکستان کی حالت اگر مشرقی سرحد سے سکھ بھی حملے کرنے شروع کرنے لگ جائیں تو صروف اس مصالحہ کی سی رہ جائے گی ہو شامی کباب (سینڈ وچ) کے پیٹ میں بھرا ہوا ہوتا ہے۔اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایسی خطرناک صورت ہوگی کہ اس سے بچنا نہا یت اور نہایت ہی مشکل ہو گا۔تقسیم پنجاب سے پہلے کی سوچی ہوئی یہ سکیمیں ہیں اور شطرنج کی سی پھال کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ اس سکیم کو پورا کیا جا رہا ہے۔ہم نے وقت پر اپنے اہل وطن کو ہوشیار کر دیا ہے۔زمانہ بتا دے گا ، کہ جو بات آج عقل کی آنکھوں سے نظر آ رہی ہے۔کچھ عرصہ کے بعد واقعات بھی اس کی شہادت دینے لگیں گے۔ہمارے نزدیک اس کا علاج یقیناً موجود ہے اور حکومت پاکستان اب بھی اپنیا مات کو جیت میں تبدیل کر سکتی ہے۔اب بھی وہ ان منصوبوں کے بداثرات سے محفوظ رہ سکتی ہے۔کیا کسی کے کان ہیں کہ وہ سُنے۔کیا کسی کی آنکھیں ہیں کہ وہ دیکھے۔کوئی دل گردے والا انسان ہے جو ہمت کر کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے ؟" مسلے سیتا بدنا المصلح الموعود کو تحریک آزادی کشمیر کے قائد ہونے کی حیثیت مجاہدین کشمیر کیلئے ہیں۔میں برسوں سے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ جو گہرا تعلق رہا تھا اس میں آزاد کشمیر حکومت کے قیام کے بعد اور بھی اضافہ ہوگیا تھا اور اب آپ اس کی کامیابی کی تجاویز د تدابیر له الفضل " ما نبوت / نومبر له مش صفحه ۱-۹۲