تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 318 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 318

کہ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم کس طرح اسلامی قانون کو تسلیم کریں گے، اب جو شخص اسلامی تعلیم سے واقف ہے وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کوئی پیچیدہ سوال نہیں ہے اسلام نے عمل کے دو حصے کئے ہیں۔ایک حصہ وہ ہے جو اپنے مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس حصہ کے متعلق تو صاف طور پر اسلامی احکام یہ ہیں کہ ہر قوم کو اپنے مذہب کی ہدایات پر چلنے کی اجازت ہے۔قرآن مجید میں صاف طور پر آتا ہے کہ مذہب سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق اہلِ انجیل کو انجیل کی تعلیم کے مطابق اور اہل تورات کو تورات کی تعلیم کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔یہی اصول تمام دیگر مذاہب کے متبعین پر چسپاں ہو گا۔پس جہاں تک اپنے اپنے مذہب کے طریق پر پھلنے۔اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا سوال ہے۔اسلام کسی مذہب میں بھی دخل اندازی نہیں کرتا۔اس کا تو صاف حکم ہے کہ لكُمْ دِينُكُمُ وَلِی دِین کہ ہر شخص کو اپنے اپنے طریق پر چلنے کی اجازت ہے اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ فلان چیز کھاؤ اور فلاں نہ کھاؤ یا مثلاً ورثہ کے متعلق ضرور اسلام کی تعلیم پر عمل کرو۔ان امور میں اپنے اپنے مذہب کے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔دوسرا حصہ اعمال کا ملکی اور اجتماعی سیاست کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔سو اس کے متعلق اسلام نے ایسی اعلی درجہ کی تعلیم دی ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جس کے متعلق کسی مذہب کا پیرو بھی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ میری مذہبی تعلیم میں مداخلتے ستون ہے، شکل اسلام نے پوری کی سزا مقرر کی ہے۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے مذہب میں چوری بیانی ہے۔اس لئے اس کی سزا دنیا مذہب میں مداخلت ہے۔ہاں دیکھنے والی بات صرف یہ ہوگی کہ کوئی سران انسانیت کے خلافت نہ ہو۔مثلا کھال کھینچنا چونکہ انسانیت کے خلاف ہے، اس لئے اس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔دیگر مذاہب میں اس بات کا لحاظ بالکل نہیں رکھا گیا۔مثلاً ہندو مذہب کی یہ تعلیم یقیناً انسانیت کے خلاف ہے کہ شو د راگر دید منتر سُن لے توسیسہ پگھلا کر اس کے کانوں میں ڈالا جائے جو گویا اُسے جان سے مار دینے کے مترادف ہے۔رہا یہ کہ چوری کی منزا کیا ہو۔سو اس سلسلے میں تو ہر ملک میں الگ الگ سزا مقرر ہے۔ان چیزوں کی تفصیلات کے متعلق مسلمانوں کا حق ہے کہ جہاں وہ اکثریت