تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 313
٣١٢ اور پاکستان کی مالیات کو بھی سخت نقصان پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کی بڑی دولتوں میں سے ایک دولت اس کی کپاس ہے۔لیکن اگر یہ اطلاعات درست نہیں تب بھی بغیر کوئلہ اور بغیر لوہے کی پتیوں اور بغیر اُن کے وقت پر مہیا ہو جانے کے اور کارخانوں کے فوراً جاری ہو جانے کے زمیندار کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔پس ہم حکومت کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اس معاملہ میں زیادہ دیر نہ کرے اور فوراً کارخانے جاری کروا دے ورنہ زمیندار تو تباہ ہو ہی جائیں گے حکومت کی اپنی مالی حالت کو بھی سخت دھکا لگے گا اور اسے بہت سے مقامات پر معاملہ اللہ آبیانہ معاف کرنا پڑے گا کیونکہ ان حالات میں زمیندار معاملہ دے کر اگلے چھ مہینے روٹی نہیں کھا سکتا۔اور اگر اگلے کچھ پھیلتے وہ روٹی کھائے گا تو گورنمنٹ کا معاملہ ادا نہیں کر سکے گا “ لے سپریم کمانڈ کے توڑے کی مخالفت کی کی یہ ہوا کہ اگر پاکستان کے منہ کا فوجی سامان ابھی تک ہندوستان میں پڑا تھا اس لئے حکومت پاکستان نے سامان کی واپسی تک دونوں ملکوں کی سپریم کمانڈ توڑنے کی مخالفت کی حضرت شيد تا اصلح الموعود نے حکومت کی اس رائے سے اتفاق کیا اور اس کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا بند "پاکستان کی فوج کا بہت سا حصہ تو ادھر آچکا ہے لیکن پاکستان کا بہت سا سامان هندوستان میں پڑا ہے۔بعض غیر ضروری سامان ایسا بھی ہے جو پاکستان کے پاس زیادہ ہے اور سہندوستان میں کم ہے۔لیکن ضروری سامان زیادہ تر مسند دوستان یونین میں پڑا ہے۔پاکستان کے گولہ بارود کا حصہ پچہتر ہزار ٹن یعنی ۲۱ لاکھ من اب تک سہندوستان یونین میں ہے اور توپ خانہ کا بہت سا سامان اور ہوائی جہازوں کا بہت سا سامان اور بھری فوج کا بہت سا سامان انڈین یونین کے پاس ہے۔اس سامان کے بغیر پاکستان کی حفاظت کی کوئی کوشش نہیں کی جاسکتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سپریم کمانڈ نے پورے انصاف سے کام نہیں لیا اور جس سرعت سے پاکستان کو سامان مہیا ہونا چاہیے ، اس ه " الفضل " و نبوت / نومبر مش صفحه ۲