تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 312
۳۱۱ لیا کریں بلکہ اگر کوئی نامہ نگار غلط خبر دے تو اس سے سختی سے باز پرس کیا کریا تاکہ آئندہ کے لئے نامہ نگاروں کے کان ہو جائیں اور وہ اختیار کی بدنامی اور قوم کی تباہی کا موجب نہ نہیں۔سوم ہمیں یہ عادت ترک کر دینی چاہیئے کہ چاروں طرف حقیقت حال کے معلوم کرنے کے لئے نوت شنوائی کا جال پھیلاتے پھریں۔یا تو کام کرنے والوں پر ہمیں اعتبار ہے۔یا ہمیں اعتبار نہیں۔اگر کام کرنے والوں پر ہمیں اعتبار ہے تو ہمیں ان کو کام کرنے دینا چاہئیے اور ان کے راستہ میں مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔اور اگر ہمیں کام کرنے والوں پر اعتبار نہیں تو تمہیں دوسرے کام کرنے والے پیدا کرنے چاہئیں۔یا کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہئیے میں سے کام کرنے والوں کی اصلاح ہوگیا ہے -۵ پاکستان کی اقتصاد کی حالت کو سدھارنے کے کارخانے جلد بھاری کروانے کا مشورہ لئے کارخانوں کا جلد سے جلد بھاری کرنا ضروری تھا چنانچہ حضرت سیدنا المصلح الموعود نے لکھا :- "پاکستان کی اقتصادی حالت کو درست کرنا گورنمنٹ کے اہم ترین فرائض میں سے ہے اور اس کی طرف جتنی بھی توجہ دی جائے کم ہے۔لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ اب تک فیکٹریاں کرائے پر بھی نہیں دی گئیں اور نہ لوہے کی پتیوں کا انتظام کیا گیا ہے نہ کوئلے کا انتظام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کارخانوں کے تقسیم ہو جانے کے بعد بھی کام فوراً نہیں چل سکے گا۔اول تو کم سے کم دو ہفتے کارخانوں کی صفائی پر لگیں گے۔پھر عملہ تلاش کرنے میں بھی ٹھیکیداروں کا وقت خرچ ہوگا بلکہ اگر ہماری اطلاعات ٹھیک ہیں تو بہت سی جگہوں پہ ہند و مالکان کا رخانہ ہے نے بعض اہم پر ز نے شینوں میں سے نکال کر چھپا بیٹے ہیں جس کی وجہ سے کارخانوں کے پیدا نے میں وقت ہو گیا۔اور جب انجنیر مشینوں کو صاف کرنے لگیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ مشینیں اس وقت تک چلنے کے قابل ہی نہیں جب تک کہ بیرونی ممالک سے بنٹے چوزے لا کر اُن میں نہ ڈالے جائیں۔جس کے دوسرے معنے یہ ہوں گے کہ اس سال روٹی کے بہت سے کارخانے پھل ہی نہیں سکیں گے۔خدا نخواستہ اگر ایسا ہوا تو زمیندار کی تباہی میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا۔له الفضل ، نبوت / نومبر مش صفحه ۲۱ + Y-