تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 311
٣١٠ کی ٹیریٹوریل فورس اور فوجی کلبوں کے ذریعہ سے جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ان کو ملک کی فوجی خدمت میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے تو یقیناً لا ہو ر ہی سے ایک لاکھ پاکستانی سپاہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔لاہور کے ضلع کی سرحد جو ہندوستان سے ملتی ہے وہ پچاس میل کے قریب ہوگی۔اگر لاہور سے اتنا سپاہی پیدا ہو جائے تو لاہور، قصور اور چونیاں کی تحصیل سے بھی یقیناً پچاس ساٹھ ہزار سپاہی مل سکتا ہے۔ان سپاہیوں کے ذریعہ سے نہ صرف لاہور کی حفاظت کی جاسکتی ہے بلکہ سارا پاکستانی ملک محفوظ ہو سکتا ہے اور پاکستانی فوج کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ہمارے نزدیک ٹیریٹوریل فورس اور فوجی کلیوں کے قیام میں بالکل دیر نہیں کرنی چاہئیے۔فوج کے مہیا کرنے کا یہ ایک بہترین اور سہل ترین ذریعہ ہے۔اس کا انتظام کلی طور پر فوج کے محکمہ کے ماتحت ہونا چاہیے اور سول محکموں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تاکہ در عملی پیدا نہ ہو اور فوج کو سیاسی مسائل سے بالکل الگ رکھا جا سکے لے کی پریس کو سی خبر شائع کرنے کی تلقین یکی اخبارات کی ترتی و بہبود میں ہم کردار ادا کرتے ہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے ایک اداریہ میں اس پہلو پر بھی قلم اُٹھایا اور پاکستانی پر لیس کو صحیح خبریں شائع کرنے کی تلقین کرتے ہوئے تقریبہ فرمایا کہ ہم یا رب تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اول اخباروں یا دوسرے اداروں کو ہرگز کوئی ایسی خبر نہ بھیجیں جو ثابت شدہ حقیقت نہ ہو اور جس میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہو۔ایسی خبروں سے قوم کے حو صلے نہیں بڑھتے بلکہ جب ان کی غلطی ثابت ہوتی ہے تو قوم کے حو صلے گر جاتے ہیں اور عارضی طور پر بڑھا ہوا سو صلہ ایک مستقل شکست خوردہ ذہنیت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور قوم ایک ایسے گڑھے میں گر جاتی ہے تیس میں سے اس کا نکالنا مشکل ہو جاتا ہے دوم۔اخبارات کو کبھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر نامہ نگار کی خیر کو تسلیم نہ کر الفضل ار اضاور اکتوبر مش صفر ۲ * ۶۱۹۴۷