تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 310 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 310

ثابت نہیں ہوا۔لائسنس کی شرطیں ضرور رہنی چاہئیں۔فسادی یا غیر معبر لوگوں کو لائسنس نہیں ملنے چاہئیں نیشنل گارڈز بھو ایک سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ان کی اجازت ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔اگر ایک سیاسی پارٹی کو فوج بھرتی کرنے کی اجازت ہو تو ہر پارٹی کو فوجی بھرتی کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے۔یہ درست نہیں کہ جو پارٹی برسراقتدار آجائے اُسے تو فوج بھرتی کرنے کی اجازت ہو، در دوسری پارٹیوں کو نہ ہو اس طرح سیاسی آزادی خطرہ میں پڑھائیگی اور ڈکٹیٹر شپ اور فاسزم کے اصول جاری ہو جائیں گے۔ہوم گارڈز کا اصول بھی غلط ہے۔کیونکہ ایک تو ان کی ٹریننگ ناقص ہوتی ہے ، دوسرے ان کا انتظام سویلین لوگوں کے ماتحت ہونے کی وجہ سے ان کا فوج کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہے اور فوج کو اس بات کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں دخل دینے لگ جائے اور یہ نہایت خطرناک بات ہے۔بجبری بھرتی بھی نہیں ہونی چاہئیے۔کیونکہ ملک ابھی اس کے لئے تیار نہیں لیکن ٹیریٹوریل فوری اور فوجی کلیوں کا اجراء فوراً شروع ہو جانا چاہیے۔ان دونوں چیزوں پر ایسی صورت میں کہ دو تین لاکھ آدمی کی ٹریننگ مد نظر ہو ایک کروڑ روپیہ سالانہ سے زیادہ خرچ نہیں ہو گا۔کیونکہ سوائے معلموں اور سوائے رائفل اور کارتوس کے خروج کے اور ایک حصہ کے وردی کے خرچ کے اور کوئی بوجھ ملک پر نہیں ہوگا۔اس فوج کی بڑی تعداد ایسے خدمت گاروں کی ہوگی جو اپنی وردیوں کا خرچ خود اُٹھائیں گے۔اور جہاں تک ٹریننگ کا سوال ہے پیش رائفلیں سو آدمیوں کو کام سکھائیں گی کیونکہ پریٹیں مختلف وقتوں میں آگے پیچھے ہوں گی اور ایک ہی رائفل چار دفعہ استعمال ہو سکے گی۔اس طرح لوگوں کو حب الوطنی کے جذبات دکھانے کا بھی موقعہ مل جائے گا اور پاکستان کی آبادی میں جنگی فنون کا میلان بھی پیدا ہو جائے گا اور ہر محلے اور گلی میں ایک طوعی سپاہیوں کی موجودگی اور بیسیوں آدمیوں کے فوجی زندگی کی خواہش پیدا کر دے گی اور موت کے ڈر کو دلوں سے نکالتی پھلی بھائے گی " اسی سلسلہ میں مزید لکھا کہ :۔اگر ان نوجوانوں کی صحیح تربیت کی بجائے اور ان کے اخلاق کو بلند کیا جائے اور الفضل " ۱۶ اکتوبر ۶۱۹۴۷ صفحه ۰۳