تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 308 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 308

اور جھاٹ یہ سب کے سب نہایت اعلیٰ درجہ کے سپاہی ہیں۔اور صرف مرنا ہی نہیں جانتے بلکہ دشمن کو مارنا بھی جانتے ہیں۔قومی جنگوں میں 4 فیصدی سے لے کو ۱۶ فیصد یا تک کی آبادی لڑائی میں کار آمد ہوتی ہے۔اوسطیٰ اگر ۱۰ فیصدی سمجھی جائے تو مشرقی پاکستان میں سے ۲۷ لاکھ سپاہی مہیا کیا بھا سکتا ہے۔اس کے مقابل میں ہندوستان کی جنگی نفری بہت کم ہے۔ہندوستان کا ۶۰ فیصدی آدمی ایسا ہے جو جنگ کے قابل نہیں۔ریاستوں کو نکال که بهندوستان کی آبادی کوئی ۲۰ کروڑ ہے جس میں سے ۱۲ کروڈ آدمی تو کسی صورت میں بھی لڑنے کے قابل نہیں۔باقی رہ گئے آٹھ کروڑ ان میں سے بھی اکثر حصہ ناقص سپاہی ہے صرف تین چار کروڈ آدمی ان کا ایسا ہے جس میں سے اچھا سپاہی لیا جا سکتا ہے مگر وہ بھی اس پانید کا نہیں ہے جس پایہ کا مسلمان سپاہی ہے۔پس ہندوستان میں سے بھی پورا زور لگانے کے بعد میں بنتیں لاکھ سپاہی ہل سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔لیکن جب لڑائی کے سوال پر غور کیا جاتا ہے تو صرف نفری نہیں دیکھی جاتی بلکہ سرحد کی لمبائی بھی دیکھی جاتی ہے بس طرح لمبی سرحد کی حفاظت تھوڑے سپاہی نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹی سرحد پر ساری فوج استعمال نہیں کی جاتی۔۶۰۰ میل کی لمبی سریعہ پر ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 4 لاکھ فوج استعمال کی جاسکتی ہے۔باقی ساری فوج رینی رو میں رہے گی اور راستوں کی حفاظت کا کام کرے گی۔پس اگر خدانخواستہ کبھی ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو جہانتک نفری کا سوال ہے ان دونوں کے درمیان کی سرحد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کی آبادی کی کثرت ہندوستان کو یہ نفع تو پہنچا سکتی ہے کہ وہ جنگ کو زیادہ دیر تک بھاری رکھ سکے یا زیادہ آدمیوں کی قربانی بر داشت کر سکے لیکن مہاننگ جنگ کا تعلق ہے وہ پاکستان کی فوج سے زیادہ تعداد والی فوج نہیں بھیج سکتا کیونکہ درمیان کی سرحد کی لمبائی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ایک وقت میں اس جگہ اتنی فوج کو استعمال کیا جا سکے خصوصاً اس لئے کہ جیسے پہلے بتایا جا چکا ہے یہ دو نو ملک محمدہ سڑکوں سے محروم ہیں اور گور بعداز چھ سو میل لمبی ہے لیکن ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچنے کے جو راستے ہیں وہ بہت محدود ہیں اور جنگ زیادہ تر رستوں سے ہی کی جاسکتی ہے جہاں سے تو پیخانہ اور سامان وغیرہ