تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 298
۲۹۶ سے پہلے بعض مسلم انجمنیں اس زمین کو پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدنا چاہتی تھیں۔یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ جب ضلع وار آباد کاری کی تجویز کو منظور نہیں کیا گیا تو احمدیہ جماعت کو یہ موقع کیوں دیا گیا ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے کو اپنی کا لونی بنالے۔یہ رپورٹ گمراہ کن اور اصلیت سے دور ہے۔جس زمین کے متعلق یہ اعتراض کیا گیا ہے۔۔وہ بنجر ہے اور عرصہ دراز سے اسے زراعت کے ناقابل سمجھا گیا ہے۔۔۔۔اسے جماعت احمدیہ کے ہاتھ فروخت کرنے سے پہلے حکومت نے اس کا اشتہارہ اخبارات میں دے دیا تھا اور پورے ایک مہینہ تک کسی شخص نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔جہاں تک قیمت کا تعلق ہے حکومت کو آہنگ پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ اس زمین کی قیمت کسی فرد یا کسی جماعت کی طرف سے پیش نہیں کی گئی۔چونکہ ابھی تک سکونتی اغراض کے لئے زمین بیچنے کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی اس لئے حکومت نے اس کے لئے وہی شرح مقرر کی تو حکومت کے محکموں کے لئے ہے۔جماعت احمدیہ اس علاقے میں ایک نئی بستی آباد کرنا چاہتی ہے جس میں قادیان کے اُجڑے ہوئے لوگ آباد ہوں گے۔ان کا خیال ہے کہ یہاں سکولی ہوں ، کالج ہوں ، مذہبی مدارس ہوں اور صنعتی ادارے ہوں۔ان کی یہ تجویز کسی صورت میں بھی ان وجوہ سے نہیں مکراتی مین کی بناء پر حکومت نے مہاجرین کی ضلع وار آبادی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے ، جو صوبے کے ایک بڑے علاقے میں بسائے جاچکے ہیں ملے سید نا صلح الموعود کی خصوصی تو جہ سے چونکہ اراضی مرکز کا معاملہ پریس کا موضوع بن چکا تھا اس لئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود کو اس اراضی پر باضابطہ قبضہ معاملہ میں پہلے سے بھی زیادہ فکر و تشویش پیدا ہو گئی۔چنانچہ حضور نے ۲ ظہور / اگست میش کو کوئٹہ سے ناظر اعلیٰ کے نام تار دیا کہ بذریعہ ایکسپریس نار اطلاع دی بھائے کہ قبضہ مل چکا ہے یا نہیں۔جواباً عرض کیا گیا کہ تحصیلدار صاحب چنیوٹ نے چودھری عبد الباری صاحب کو بتاریخ هم را گست ۱۹۴۷ء قبضہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔اس پر حضور نے بذریعہ تار ارشاد فرمایا :- سه اخبار انقلاب لاہور اس راگست 19 اور صفحہ بہ کالم ۲-۳۔+