تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 297 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 297

۲۹۵ ایک جماعت احمدیہ کے ناظر امور خارجہ نے اس غلط پراپیگینڈا ات کے ناظر اور تردید کی تردید میں ۳ ظہور / اگست پر مہش کو حسب ذیل بیان جاری کیا :- "اخبار" "زمیندار" نے اپنی اشاعت یکم اگست ۱۴ میں احراری اخبار آزاد کے حوالہ سے ایک مقالہ افتتاحیہ سپرد قلم کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو اراضی جماعت احمدیہ نے پیوٹ کے قریب دس روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدی ہے اس اراضی کو بعض لوگ پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدنے کے لئے تیار تھے سو اگر یہ درست ہے تو واقعی حکومت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بصرہ العزیز گورنمنٹ کے اس نقصان کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے حضور نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں یہ پریس کمیونک بھاری کروں کہ ہم یہ رقبہ جو ۱۰۳۴ ایکڑ ہے مندرجہ بالا پیش کردہ قیمت پر فروخت کرنے کو تیار ہیں اور علاوہ ازیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس رقم کا رجو پندرہ لاکھ اور اکاون ہزار روپیہ فیتی ہے ، وصول ہوتے ہی ایک ایک روپیہ فوراً حکومت پاکستان کے خزانے میں داخل کرا دیں گے۔اخیر میں ہم پاکستان کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملہ کے متعلق اخبار آزاد کا لفظ لفظ کذب بیانی پر مبنی ہے۔“ سے سکومت مغربی پنجاب نے بھی مندرجہ بالا بیان کی تائید میں ایک حکومت مغربی پنجاب کے اعلان سرکاری ملوان شائع کیام بنفسہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔احمدیوں کو دس روپے فی ایکڑ کے بھائو بنجر زمین دی گئی ہے یہاں قادیان کے خانماں ویران لوگ آباد ہوں گے حکومت کا اعلان لاہور۔سرکاری اطلاع - ۲۸ اگست - بعض اخبارات میں ایک خبر چھپی ہے جس میں اس بات پر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ حکومت مغربی پنجاب نے ۱۰۳۴ ایکٹر زمین ضلع جھنگ میں چنیوٹ کے قریب جماعت احمدیہ کے ہاتھ دس روپے فی ایکڑ کے حساب سے بیچی۔الزام یہ ہے کہ تقسیم الفضل بر ظہور / اگست بیش صفحه ۱ :