تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 19 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 19

19 (ترجمہ) میں گوبند سہائے دیوان بہادر دیوان کے پوتے نے جماعت قادیان میں دیانت داری کی صحیح روح دیکھی ہے۔اس جماعت کے امام آجکل ہماری کو بھی رتن باغ میں قیام پذیر ہیں۔انہوں تجھے ہمارے گھر کی وہ تمام اشیاء یہاں تک کہ زیورات بھی جو ہمارے خاندان کے افراد پیچھے چھوڑ گئے تھے واپس دے دیئے ہیں۔کچھ نقد روپیہ جو الماری میں پڑا تھا وہ (حضرت) مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ نے خود مجھے واپس کیا ہے۔میں حقیقہ اس سلوک سے جو اس جماعت نے ہم سے روا رکھا ہے بہت ہی خوش ہوں۔(دستخط) گویند سہائے دیوان مورخ ۲۴/۱۲/۲۷ کو بھی رتن باغ کا ایک بیرونی اور وسیع کمرہ قبلہ رُخ تھا جسے پہلے روز سے پنجوقتہ نمازوں اور و حفظ و تلقین کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔اسی میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہونے والے ملاقات کی سعادت حاصل کرتے اور اپنے مقدس اور بجان سے پیارے آقا کے زندگی بخش کلمات سے مستفید ہوتے تھے اور اسی جگہ تمام اہم مرکزی اجلاسوں کی کارروائی ہوتی تھی حضور نے دور پاکستان کے ابتدائی سات خطبات جمعہ دہلی دروازہ کی احمدیہ مسجد میں ارشاد فرمائے۔مگر جب احمدی جہا بوین کا بے پناہ سیلاب امڈ آیا تو حضور نے کار اخلاء / اکتوبر ۲۶ امیش کے 19ء خطبہ ثانیہ میں فرمایا :- چونکہ مسجد میں جگہ تنگ ہے اور لوگ زیادہ تعداد میں آئے ہیں اس لئے منتظمین کو چاہیے کہ وہ آئندہ خطبہ کا کسی اور جگہ انتظام کریں جو موجودہ جگہ سے زیادہ فراخ اور وسیع ہو۔مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی شکایت ہے کہ وہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے خطبہ سننے کے لئے نہیں آ سکتیں۔یہ یقینی بات ہے کہ جب تک عورتوں کی اصلاح نہ ہو آئیندہ نسل کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اس لئے کسی وسیع جگہ کا جمعہ کے لئے انتظام کرنا چاہیئے تا کہ تمام عورتیں بھی شامل ہوسکین اور مرد بھی۔اس مسجد میں عورتوں کے لئے جو جگہ ہے اس سے پندرہ نہیں گنا زیاد جگہ صرف عورتوں کے لئے چاہیئے اور مردوں کے لئے بھی موجودہ جگہ سے کم از کم دو گنی جگہ ہونی چاہیئے۔پس آئندہ خطبہ جمعہ کا کسی کھلی جگہ انتظام کیا جائے کیونکہ بہت سے لوگ