تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 296 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 296

۲۹۴ گیا اس لئے ہم کوئی کا روائی نہیں کر سکتے۔پھر دوبارہ کاغذات مکمل کر کے بھیجے گئے۔پھر افسر مقررہ نے ایک مہینہ بعد تعمیل کی۔پھر اپریل میں قیمت لگائی گئی۔پھر یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کا غذات منسٹری کے پاس جائیں ہم نے کہا کہ یہ کام تو فنانشل کمشنر صاحب خود کر سکتے ہیں۔مگر کہا گیا کہ یہ کام چونکہ اہم ہے اس لئے کا غذات کا منسٹری کے پاس جانا ضروری ہے۔کاغذات منسٹری کے پاس بھیجے گئے۔منسٹری نے کہا۔ابھی ان پر غور کرنے کے لئے فرصت نہیں۔آخر ایک لمبے انتظار کے بعد جون میں فیصلہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ جو قیمت ڈالی گئی وہ وصول کی گئی۔یہ واقعات میں نے اس لئے بتائے ہیں کہ گورنمنٹ کے افسرا نے ہمارے ساتھ کوئی مات نہیں بلکہ ان میں سے بعض کی غفلت کی وجہ ہم سال بھر تک اُجڑے رہے۔اب جگہ ملی ہے صرف ایک کر ہاتی ہے۔اگر وہ دور ہو گئی تو جلد آبادی کی کوشش کی بجائے گی ہے ار اضی کی خرید کے بارے میں تمام مراحل طے ہونے کے بعد قیمت اراضی کا ادخال اور رجبری اس کی قیمت کے ادخال اور رجسٹری کرانے کے معاملات اولین توجہ کے محتاج تھے بچنا نچہ صدر انجمن مدینے بھی اسکی طرف خصوصی توجہ دی اور ۲۲ احسان خون است کو زمین کی قیمت اور اخراجات رجسٹری وغیرہ کے لئے فوری طور پر بارہ ہزار روپے چوہدری عبدالباری صاحب مختار عام صدر انجمن احمدیہ کو ادا کر دیئے جنہوں نے ۲۷ احسان جون کو جھنگ بھا کہ زمین کی قیمت داخل خزانه سرکار کرا دی۔بعد ازان سرکاری سند پر فنانشل کمشنر، اسسٹنٹ سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر کے دستخط بھی کرائے اور یوں سرکاری سند کی رجسٹری مکمل ہوئی۔اگرچه رسبری تو عام دفتری روایات کے بر خلاف بہت جلد ہو اخبارات میں گمراہ کن پراپیگنڈا کئی گر زمین کاقبضہ دیئے جاتے میں متعلقہ حکام کی طرف سے نا واجب تاخیر ہونے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ پیچیدگیوں اور دشواریوں کا ایک نیا دروازہ کھل گیا اور وہ اس طرح کہ پنجاب کے بعض اخبارات ) آزاد ، احسان ، مغربی پاکستان اور زمیندار نے احمدیوں کے ہاتھوں اس رقبہ اراضی کی فروخت پر سخت نکتہ چینی شروع کردی بلکہ یہانتک لکھا کہ کئی لوگ اس زمین کو پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدنے پر تیار تھے مگر حکومت نے دس روپے فی ایکٹر پر اتنا بڑا رتبہ احمدیوں کے حوالہ کر دیا ہے۔الفضل" ۳۸ تبوک /ستمبر ۳۳۷ سه مش صفحه ۹۵