تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 293 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 293

٢٩١ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دریائے چناب کے نزدیک چنیوٹ سرگودھا سڑک پر "چک ڈھگیاں" کے نام سے ایک قطعہ اراضی موجود ہے جس کا رقبہ ۱۵۰۶ ایکڑ ہے۔اس میں سے ۴۷۲ ایکٹر کارقب تو غیر ممکن“ کہلاتا ہے یعنی اس میں آبادی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں ریلوے لائن، بڑی سڑک اور پہاڑیوں کے علاقے شامل ہیں۔بقیہ رقبہ ۱۰۳۴ ایکڑ بھی اس قسم کا ہے کہ وہ زراعت کے ناقابل ہے البتہ اس میں مکانات وغیرہ تعمیر ہو سکتے ہیں۔یہ زمین اب تک کسی فرد کی زیر ملکیت نہیں۔اور نہ ہی کبھی یہ زرعی علاقہ سمجھا گیا ہے۔ہماری درخواست یہ ہے کہ یہ قطعہ اراضی صدر انجمن احمدیہ کو دے دیا جاوے۔ہوسکتا ہے کہ اس خطے کے ملحقہ علاقے کو بھی بعد میں حاصل کر لیا جاوے مگر اس کے لئے پھر درخواست پیش کی جاوے گی۔فی الحال ہمیں اپنے وسیع نظام کو مرکوز کرنے کے لئے اور اپنے دفاتر اور انجمن کی متعدد شاخوں کو یکجائی طور پر ایک مرکز سے منسلک کرنے کے لئے ایک ایسے خطے کی ضرورت ہے جسے مرکزی حیثیت حاصل ہو۔( دستخط ) خاکسار آپ کا خادم محمد عبد اللہ خاں ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ پاکستان منشی محمد دین صاحب نے یہ درخواست اسی روز (۱۸ را خاء/ اکتوبر ) کو بنگلہ لالیاں میں ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ (چوہدری مشتاق احمد صاحب چیمہ) کی خدمت میں پیش کر دی۔چنانچہ وہ تیسرے روز ایک جیپ پر سپر نٹنڈنٹ پولیس صاحب اور شیخ محمد دین صاحب کے ساتھ اراضی دیکھنے کے لئے تشریف لائے اور تحصیلدار صاحب کو موقعہ کا نقشہ شامل کر کے رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔آخر کا غذات مکمل ہو کر ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں پہنچے جو انہوں نے سفارش کے ساتھ کمشنر صاحب کو بھجوا دئیے جہاں سے فنانشل کمشنر (جناب اختر حسین صاحب) کی خدمت میں بغرض منظوری پہنچے۔ریو نیومنسٹر نے بعض اعتراضات کے ساتھ یہ سب کا غذات واپس کر دیئے۔ازاں بعد جوابات کی تکمیل پر یہ کیس دوبارہ ریو نیومنسٹر کے دفتر میں پہنچا اور بالآخر ایک طویل کشمکش کے بعد ا ار ماہ احسان / جون ہش کو حکومت پنجاب سے حسب ذیل الفاظ میں زمین دیئے جانے کی منظوری ملی۔