تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 272
۲۷۰ کیمپ میں بھاگے بھا رہے تھے اور کرفیو کا وقت بالکل قریب تھا۔انہیں ان کے منشاء کے مطابق ظہور احمد صاحب وکیل کے گھر پہنچایا گیا جہاں وہ کئی روز مقیم رہنے کے بعد بھارت پہلے گئے۔لالہ دینا ناتھ صالح میلی امور دیا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے نام ایک مکتوب میں لکھا :- دنیا میں پیارے دوست خادم صاحب ہیں وہ میری بڑی حفاظت کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔دنیا میں آپ کی تعریف بہت ہو رہی ہے۔دہلی ، انبالہ ، امرتسر میں آپ کی محبت کی اس قدر تعریف ہو رہی ہے کہ بیان سے باہر ہے جن ہندوؤں کو آپ کی جماعت نے پناہ دی ہے وہ ہر وقت آپ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ایسی جماعت کے اصول کمال درجے کے ہیں۔آپ کی جماعت کے آدمیوں نے جن سہندوؤں کا روپیہ رکھا تھا وہ واپس دیا۔ان کی زندگیاں بھائی ہیں۔ہر وقت دُعا دیتے ہیں۔بخدا وند کریم تمہاری عمر بہت نبی کرے اور آپ کی جماعت۔کو اتنی طاقت بخشے کہ دنیا میں لوگوں کی بھلائی اچھی طرح کریں“ قیام امن اور غیرمسلموں کی حفاظت کے چند مخصوص واقعات کا بطور نمونہ تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم مختصر طور پر یہ بتاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی یہ خدمات صرف چند افراد یا لبعض مقامات سے مخصوص نہیں تھیں بلکہ اُن کا سلسلہ پورے مغربی پاکستان پر پھیلا ہوا تھا حتی کہ جہاں کہیں کے د کے احمدی بھی موجود تھے۔انہوں نے اسلام کے اصول رواداری اور پیغام اخوت انسانی پر عمل کرتے ہوئے اپنی جان کی بازی تک لگا دی مگر غیر مسلموں پر آنچ نہیں آنے دی مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا ، اس کا سب سے زیادہ تر عمل صوبہ مغربی پنجار مغربی پنجاب ہیں ہوا۔لہذا سب سے پہلے اس صوبہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔تحصیل شکر گڑھ کے علاوہ ضلع گورداسپور کی باقی تحصیلیں (جو بھارت میں شامل کر دی گئی تھیں) فتنه و فساد کا مرکز بنی ہوئی تھیں جہاں مسلمانوں بالخصوص احمدیوں کے خلاف ایک حشر بر پا تھا مگر تحصیل شکر گڑھ میں احمدی غیر مسلموں کی حفاظت کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے تھے۔مثلا فقیر محمد صاحب نہا جو عارف والا ضلع منٹگمری (ساہیوال) ان دنوں شاہ پور امر گڑھ میں امن کمیٹی کے سیکر ڈی تھے۔آپ نے ایک سکھ کو جو تنہا رہ گیا تھا اپنی حفاظت میں رکھا۔اسی طرح شکر گڑھ میں ڈاکٹر فضل کریم صاحب نے چاک قاضیاں کی ایک غیر مسلمہ کو کئی دنوں تک پناہ دے کر بحفاظت سرحد تک پہنچایا۔