تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 269 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 269

۲۶۷ پہلا واقعہ صوبیدار نصر اللہ صاحب ہی کا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ پہلا واقعہ در حضور کی یہ تقریر سننے کے بعد ہم لوگ دوسرے یا تیسرے روز واپس آگئے۔صاف صاف اور کھلے بندوں ہم نے غیر مسلموں کی حفاظت شروع کر دی سکھوں کے متعلق زیادہ خطرہ تھا ان کی زیادہ حفاظت کرتے۔بلکہ بعض دفعہ میں خود رات کو بندوق کے ساتھے اُن کا پہرہ دیتا۔پھر پولیس والوں نے غیر مسلموں سے مال کھانے کی کوشش کی۔ہم نے یہ کوششیں بے کار کر دیں حتی کہ پولیس کی ہمارے ساتھ عداوت بھی ہو گئی۔لیکن ہم نے صاحت طور پر ان لوگوں سے کہہ دیا کہ کچھ بھی ہو ہم نہ اُن کا مال ضائع ہونے دیں گے اور نہ ہی ان کو کسی قسم کی تکلیف ہونے دیں گے۔پہلے ہم ان پر جانیں دیں گے پھر اُن کے نزدیک کوئی آئے گا۔آخر ایک دن پولیس ہمارے گاؤں میں غیر مسلموں کو لینے کے لئے آئی۔عورتیں بھاگ کو کوئی تمہیں کے قریب میرے مکان میں آگئیں۔رات اور دن بھر میرے گھر کے اندر رہیں ہم نے نہ مردو کی امد نہ عورتوں کو کسی قسم کی تکلیف ہونے دی۔ان سب کو بحفاظت کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔سکھوں کو میں رات کے وقت خود بجا کہ حفاظت سے کیمپ میں چھوڑ آیا۔اسی طرح ایک اور پارٹی کو میں خود لے کر کیمپ چھوڑ آیا۔وہ سب اپنا سامان اونٹوں اور خچروں پر لدوا کر ساتھ لے گئے۔دوسری پارٹی میں تقریباً پچاس کے قریب مرد اور عورتیں تھیں۔پہلی پارٹی کے کیمپ میں جانے کے بعد میں ان کی امانتیں ہو کہ نقدی اور زیور کی صورت میں بھی تقریباً اٹھارہ ہزار روپیہ کا مال ہوگا جو کہ میرے پاس تھا۔وہاں کے کیمپ کمانڈر کے پاس گیا اور اس کو کہا کہ میرے پاس میرے گاؤں کے غیر مسلموں کی امانتیں ہیں۔آپ اپنا ایک افسر میرے ساتھ بھیجیں تاکہ میں سب کے سامنے ان کو تقسیم کروں۔میجر صاحب جو کہ یونٹ کا ایڈجوٹنٹ تھا۔اس نے اپنے صوبیدار میجر کو میرے ساتھ بھیجا۔میں نے سینکڑوں آدمیوں کے سامنے ایک ایک کو بلوا کر ان کا زیور اور روپیہ تقسیم کیا۔۔اس کے بعد جس جس چیز کی ان کو ضرورت تھی ان کے گھروں سے ان کو بھیجوا دی گئی۔ان کا ضائع شدہ سینکڑوں روپیہ کا مال اور زیور برآمد کر کے بعد میں کیمپ میں بھا کر دیا۔میری رخصت ۱۸ ستمبر (۱۹۹۷) تک تھی۔لیکن گجرات ایریا کمانڈر نے اس