تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 16 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 16

14 ماہ ظہور اگست سن سالہ مہیش میں اس احاطہ کے مکینوں کی تعداد ۱۳۹۵ تک جا پہنچی چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اُن دنوں رتن باغ اور اس کے ملحقہ مکانوں کی مردم شماری کرائی جس کی تفصیل میں آپ نے تحریر فرمایا کہ اس وقت صدر انجمن احمدیہ کی وساطت سے چار مکانات جماعت کے نام الا سٹہ شدہ ہیں یعنی (۱) رتن باغ (۲) جودھامل بلڈنگ (۳) جسونت بلڈنگ اور (نمی سیمینٹ بلڈنگ۔ان عمارتوں میں حضرت خلیفہ ایسیح امام جماعت احمدیہ اور آپ کے خاندان کے علاوہ صدر انجین احمدیہ کے کارکن اور بہت سے دوسرے احمدی پناہ گزین آباد ہیں اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر بھی انہیں عمارتوں میں ہیں۔بہر حال مردم شماری کی تفصیل حسب ذیل ہے :- نمبر شمار نام عمارت تعداد خاندان تعداد افراد کیفیت (1) (۳) (۳) رتن باغ جود عامل بلڈنگ جسونت بلڈنگ (۴) سیمنٹ بلڈنگ میزان At ۱۴۱۰ ۲۲ ۲۴ ۲۴ ۱۵۲ ۹۵ تمر بقیہ حاشیہ :۔ہے۔اور اپنی گولائی کی وجہ سے بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔اندر نگاہ پڑتے ہی دور تک سرووں کی دو رویہ قطار دکھائی دیتی ہے۔باغ کا رقبہ سات ایکڑ کے قریب ہے۔ایک بلند اور طویل دیوار نے جس کا ارتفاع بارہ تیرہ فٹ سے کم نہیں باغ کے احاطہ کو اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے۔۔۔۔تمام پرانے باغات میں یہ باغ سب سے بہتر ہے۔اس کے اندر ایک مردانہ ہائی سکول اور ایک زنانہ کالج بھی ہے۔اس باغ کے ایک طرف ٹریبیٹیوں کا دفتر اور مسجد مائی لاڈو واقع ہے" جناب محمد عبد اللہ صاحب قریشی جنہوں نے ” ماثو لاہور کے اوراق کو مفید حواشی اور محمدہ معلومات کے اضافہ کے ساتھ جمع کر کے بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے مرتب کیا " رتن باغ " کے مندرجہ بالا حالات