تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 266
۲۶۴ قادیان کے حصے میں تقریباً پچاس ہزار آدمی سکھوں کے محاصرہ میں ہیں اور ہر روز قتل کے بازار گرم ہوتا ہے۔اس خبر کے مطابق جو قادیان سے پہنچی ہے تقریباً پانچ سو جوان شہید و گئے ہیں ہندوستان کی حکومت پولیس کے ذریعہ ان کی مدد کر رہی ہے اور مسلمانوں کے قتل اور خونریزی کے لئے صحت اقدامات کر رہی ہے۔ارجنٹائن کے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار ( ELMUNDO) نے ارجنٹائن کے اخبارات بھی قادیان کے متعلق نمایاں جگہ میں مندرجہ ذیل واضح نوٹ شائع کیا۔ایک علمی اور مرکزی شہر کی حفاظت اطلاع گذشتہ رات مولوی رمضان علی صاحب ہمارے ادارہ تحریرہ میں ملاقات کے لئے آئے۔آپ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے قادیان شہر کی جماعت احمدیہ کی طرف سے اس ملک میں ڈیلی گیٹ مبلغ ہیں اور آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ مذکورہ شہر آخری فسادات کے سبب کس قدر مشکل اور خطرناک حالت میں ہے۔قادیان کے متعلق یہ ذکر کرتے ہوئے کہ یہ شہر یک گونہ یونیورسٹی والا شہر ہے۔جہاں کئی ایک کالج اور ہائی اور پرائمری سکول ہیں۔مولوی صاحب موصوف نے ہمیں بتایا کہ اس شہر کے ہیں ہزار باشندے سخت خطرہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔یہ لوگ امن پسند اور نہتے ہیں اور انہیں مسلح جتھوں نے کامل طور پر گھیرا ہوا ہے اور یہ جھتے اس شہر کو جلا دینا چاہتے ہیں اور ان خطرات کا علم انہیں اُن تاروں سے ہوا ہے جو انہیں گذشتہ ایام میں ملے ہیں۔مولوی صاحب چاہتے ہیں کہ ان بہت سے افراد کے نام پر جو اس شہر کے دوست ہیں جن میں سے کئی ایک اجنٹائن قومیت کے ہیں یا جو ارجنٹائن تو نہیں لیکن ان کے بچے یہاں پیدا شدہ ہیں ایک ہمدردانہ تحریک کی جائے اور سہندوستانی حکومت سے اس قدیم علمی شہر اور اس میں بسنے والے باشندوں کی حفاظت کی درخواست کی بجائے مولوی صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ مند رعد بالا حکومت کے لئے ارجنٹائن کی حکومت سے اخلاقی اور معنوی مرد حاصل کرنے کی کوشش کریں گئے" (ترجمہ) بجواله الفضل مارالفاء / اکتوبر ۱۳۳۶ هشد 14NZ