تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 257
۲۵۵ مدارس کا مکان بالکل تاخت و تاراج کر دیا گیا۔اگرچہ کیپٹن بہاگ سنگھ نے وعدہ کیا تھا کہ کا نوائے کی تلاشی نہیں کی جائے گی لیکن اس کے باوجود اس کا نوائے کو جس میں چھ لاریاں تھیں روک لیا گیا اور مردوزن سب کی تلاشی لی گئی۔ہندو جمعدار نے دو سو روپے کا مطالبہ کیا جو ادا کر دیئے گئے نے کتاب کار روان سخت جان اداره رابطه قرآن ( دفاتر محاسبات دفاع پاکستان) نے جان مارد گار روان سخت جان " کے نام سے ایک کتاب شائع کی " میں فسادات قادیان کا تذکرہ جس میں فسادات کا اثر قادیان پر“ کے عنوان سے لکھا:۔ضلع گورداسپور کی سب سے بڑی تحصیل بٹالہ ہے جس کی آبادی ضلع کی دوسری تمام تحصیلوں کے برابر ہے۔یہاں کی مسلم آبادی کا تناسب ۵۵ فیصد کا تھا۔اس تحصیل کے صدر مقام یعنی بٹالہ کو چھوڑ کر دوسرے نمبر پر قادیان ایک بڑا قصبہ ہے جہاں کی آبادی ۱ ہزار نفوس پرمشتمل تھی۔یہ مقام علاوہ اپنی صنعتی اور تجارتی شہرت کے جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کے گرد و نواح میں تمام تر سکھوں کی آبادی ہے۔چنانچھ فسادات کے ایام میں تمہیں بھیس میں دور کے مسلمان بھی قادیان شریف میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔یہ تعداد بڑھتے بڑھتے ، ہزار نفوس تک پہنچ گئی۔چونکہ ان پناہ گزینوں کو ظالم اور سفاک سکھوں نے بالکل مفلس اور تلاش کر دیا تھا لہذا قادیان کے باشندگان نے ان بیچاروں کی کفالت کا بیڑا اُٹھایا۔ظاہر ہے اتنی بڑی جمعیت کے لئے خوراک اور رہائش کا بال اُٹھانا کوئی معمولی کام نہیں ہے اور خصوصاً ایسے ایام میں جبکہ ضروریات زندگی کی اتنی گرانی ہو چنا نچہ یہ ناخواندہ مہمان قادیان کی کفالت میں اس وقت تک رہے جب تک حکومت نے عملاً ان کو ایسا کرنے سے روک نہ دیا۔یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہا۔قادیان سے واقف اصحاب اس کی صفائی اور نفاست تعمیر سے کما حقہ آگاہ ہوں گے لیکن پناہ گزینوں کی کثرت سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے میدان حشر ہے۔جس وقت سکھ بد معاشوں نے ایک ایک کر کے تمام نواحی گاؤں مسلمانوں سے خالی کرائے تو اب انہوں نے قادیان کی طرف بھی رجوع ے کتاب سکھ میدان کارزار میں صفحہ ۳۱-۳۲ ۰