تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 232 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 232

۲۳۰ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ مغربی پنجاب میں جہاں جہاں ہندو اور سکھ جمع ہیں ، پاکستان کی حکومت ان کی خوراک کا معقول بندوبست کرتی ہے حتی کہ ان کے لئے پھل، تہ کاریاں اور دودھ بھی سرکاری طور پر مہیا کیا جاتا ہے مگر قادیان میں حالت یہ ہے کہ پولیس نے ۱۲۹ ستمبر کو منادی کرا دی کہ قادیان میں ہمیں شخص کے گھر میں دو بوریوں سے زیادہ آتا یا گندم ہوگی اُسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔گویا اس کا صاف طور پر مطلب یہ ہے کہ قادیان کے لوگوں کا راشن اپنے قابو میں کر کے انہیں بھوکوں مرا بھائے۔اس وقت ہزاروں پناہ گزین احمدیوں کے گھروں سے روٹیاں کھا رہے ہیں۔قادیان کے مسلمانوں نے حکومت سے راشن کے لئے درخواست نہیں دی۔اور حکومت میں) کا نام ایک تھانیدار اور چند سکھ سپاہی ہے) قادیان سے غلہ غصب کر کے وہاں کے باشندوں اور پناہ گزینوں کو بھوکوں مارنا چاہتی ہے۔کیا دنیا میں کسی قوم پر اس سے بڑھے کو بھی ظلم و ستم کیا جا سکتا ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت کیوں قادیان کی طرف توجہ نہیں دیتی۔کم از کم وہاں مسلمان ملڑی ہی بھیجواد کی جائے اور مشرقی پنجاب کی حکومت سے نوٹس لیا جائے کہ وہ کیوں قادیان کے باشندوں سے گندم زبر دستی چھین رہی ہے۔لیڈر توجہ کریں پاکستان کے وزیر اعظم رامیاقت علی زنان در میان افته والدین ساحب ذرا اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لیں کیونکہ قادیان میں اب حالات انتہائی نازک صورت اختیار کر سکے ہیں۔اگر تم قصور نہ کرو گے رپورٹ میں ہمارے نامہ نگار نے ایک دلچسپ لطیفہ بھی سپر تسلیم کیا ہے کہ سکھا شای عید کی عجیب و غریب حکایتیں سنا کرتے تھے مگر قادیان میں عملی طور پر دیکھ لی ہیں مثلاً ایک آدمی پہلا جا رہا تھا کہ سکھ سپاہی نے اسے فوراً گرفتار کر لیا۔جب اس آدمی نے پوچھا۔میرا تصور کیا ہے تو یہ سن کر سکھ سپاہی نے جواب دیا کہ اگر تم قصور نہ کرو گے تو کیا ہم تمہیں پکڑیں گے ہی نہیں ؟