تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 231
۲۲۹ پولیس اب شدید ظلم و ستم پر اُتر آئی ہے اور پولیس اور ملٹری کے سپاہی ارد گرد کے دیہاتے میں جا کر سکھوں سے کہتے ہیں کہ تم قادیان پر حملہ کرو۔اگر تم قادیان پر حملہ نہیں کرو گے تو ہم تم پر ہی گولی چلا دیں گے۔رپولیس کی امداد سے ڈاکہ) ستمبر کو سیکتھوں نے پولیس کی مدد سے مظلوم پناہ گزینوں کو ٹوٹنا شروع کر دیا پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ پناہ گزینوں کے پانچ ہزار مویشی لوٹ لئے گئے اور جب تھانہ میں کہا گیا کہ یہ اندھیر نگری کیا ہے تو جواب دیا گیا کہ چونکہ قادیان میں چارہ نہیں اس لئے ان مویشیوں کے مر جانے کا خطرہ تھا لہذا یہ آزاد کر دیئے گئے ہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت کے کارنامے قادیان میں شدید بارش ہوئی ہے ایسی بارش کہ جس کی مثال نہیں ملتی غریب پن اگزینوں نے تعلیم الاسلام کالج ، جامعہ احمدیہ ، ہائی سکول ، بورڈنگ ہاؤس ، نصرت گرلز ہائی سکول اور محکمہ جات کے مکانوں میں پناہ لی۔بعض باہر ہی بھیگ گئے اور پھر اس پر پولیس کا با بولت رویه - کسی شخص کو پکڑ لیا اور اس کی جیب خالی کروائی۔کسی کے گھر میں گھس گئے اور ٹوٹ مار شروع کر دی کسی کے مویشی ہانک لئے کسی کا زیور اور روپیہ چھین لیا۔گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب میں کوئی حکومت ہی نہیں اور پولیس اور ہندو ملٹری کو ہر قسم کا جبر و تشدد کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔تلاشیاں کی جا رہی ہیں با وجود اس امر کے کہ پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے کنواے کی تلاشی نہ لینے کا معاہدہ ہو چکا ہے اور پاکستان کی حکومت اس معاہد نے پر پورا پورا عمل کر رہی ہے۔مگر قادیان سے جو قافلہ روانہ ہوتا ہے اس کی وہیں زیر دست تلاشی نی جاتی ہے۔اس نقاشی میں بعض لوگوں سے گھڑیاں قلمیں اور بعض اس قسم کی دوسری چیزیں بھی چھین لیں اور ادھر مغربی پنجاب میں غیر مسلموں کے پوڈر اور لپ اسٹک کے بل بن رہے ہیں۔بھوکوں مارنے کی سازش