تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 230
۲۲۸ بھی ہو کیونکہ سکھوں نے کہا ہے کہ ہم قادیان سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی روکیں گے۔گاڑیوں کے ڈرائیور بھی مسلمان ہوں کیونکہ سکھ ڈرائیور کوٹلہ یا پانی ڈالنے کے بہانے انجن کو گاڑی سے علیحدہ لے بھاتے ہیں اور پھر سکھ جتھے گاڑیوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں“ - اخبارہ زمیندار نے چند دن بعد اپنے اداریہ میں جماعت احمدیہ کی ملی خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے لکھا :- ضلع گورداسپور میں یوں تو متعدد مقامات پر مسلمان محصور ہیں مگر تین کیمپ بہت بڑے ہیں (1) بٹالہ کے پناہ گزینوں کی حالت بہت ہی خواب ہے۔نہ سر چھپانے کے لئے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کھانے کے لئے کوئی چیز ہے۔بہندو فوجیوں نے قیامت برپا کر رکھی ہے۔زیورات اور سامان پر ڈاکے ڈالے ہی جاتے تھے اب تو خواتین کی عصمت و عزت پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔دوسرا کیمپ سری گویند پورہ میں ہے۔وہاں کی صورت حال بھی بٹالہ سے کم خوفناک نہیں۔تیسرا کیمپ قادیان میں ہے۔اس میں شک نہیں۔مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکریہ طریقے پر کی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں جوانوں کے سوا تمام مرزائیوں کو قادیان سے نکالا جارہا ہے۔لہذا وہ فوجی لاریوں میں گنجائش رہنے ہی نہیں دیتے۔حکومت کا فرض ہے کہ اول تینوں کیمپ میں مسلم فوج بھجوائے۔دوم راشن کا خاطر خواہ انتظام کرے۔سودم مہاجرین کو لاریوں اور محفوظ قافلوں کے ذریعے سے پاکستان پہنچانے کی کوشش کرے۔ورنہ دو لاکھ مسلمان عزت و دولت کے ساتھ ہی زندگی بھی گنوا بیٹھیں گئے" اخبار ”زمیندار“ نے ”قادیان کے درد ناک کو الف“ کے عنوان سے اپنے نامہ نگار خصوصی کے قلم سے ستمبر کے آخری ایام کی ایک اور مفصل رپورٹ شائع کی جو بھینسہ درج ذیل کی جاتی " ہے :- قادیان میں حالات اب نازک ترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔زمیندار کے نامہ نگار خصوصی نے جو رپورٹ بھیجی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت کسی گہری سازش کے ماتحت قادیان کو معالی کروانے پہ تکی ہوئی ہے کیونکہ قادیان کی ہندو ملٹری اور سکھ " "زمیندار" ۲۷ ستمبر ۱۹ صفحه ۳ : نے زمیندار ۳ اکتوبر نصب ہے