تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 229 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 229

۲۲۷ شوٹ کر دیا جائے گا۔لیکن مسلمانوں میں سے کوئی بھی تیار نہ ہوا۔ادھر سکھ ارد گرد کے دیہات میں جمع ہوتے رہے کہ قافلہ آنے والا ہے اس کو ٹوٹیں گے انہوں نے سکھ تھانیدار کو پیغام دیا کہ قافلہ جلد بھیجو ہم تو گھروں سے نکل کر اب کھادوں میں بیٹھے ہیں۔۲۰ ستمبر کو قادیان سے چار ٹرک جن میں پناہ گزین بیٹھے تھے۔جب قادیان سے نکل کر نہر پر آئے تو پنجگرائیاں کے موڑ پر سکھوں کے ایک مجھے نے ان ٹرکوں پر حملہ کر دیا۔ملٹری نے فائرنگ کی تو سیکھ بھاگ گئے اور قادیان میں ہندو ملٹری نے یہ بات مشہور کر دی کہ مسلمان ملٹری نے جو ٹرکوں کے ساتھ تھی یونہی بھان بوجھ کر شرارت کی ہے اور سات سکھ مار دیئے ہیں۔سکھ کہتے ہیں کہ ہم قادیان کے قبرستان میں ہل چلائیں گے اور یہاں کی مسجد میں اب گوردوارے نہیں گے۔سہندو ملٹری ان کے ساتھ پورا تعاون کر رہی ہے۔۲۱ ستمبر کو انہوں نے قادیان میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جس کا صاف طور پر مطلب یہ ہے کہ اب سکھ رات کو پولیس اور ملٹری کی مدد سے لوٹ مار مچائیں گے۔قادیان میں بلیں مزید سپاہی بھرتی کئے گئے ہیں جو سب کے سب سکھ ہیں۔مسلمانوں نے کہا کہ مسلمان سپاہی بھی رکھو بچنا نچہ بعض اتداری بھی گئے۔انہوں نے کہا۔ہم نے پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ہم مسلم لیگی نہیں۔ہیں۔بعض نمیشلسٹ مسلمان بھی تھے۔مگر تھانیدار نے کہا ہم کسی " مسلے کو بھرتی نہیں کر سکتے یہاں سے دفع ہو جاؤ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قادیان میں جلد سے جلد مسلمان ملٹری بھیجی ہے تاکہ ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کی حفاظت ہو سکے۔پناہ گزین عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو وہاں سے بحفاظت پاکستان میں لایا بھائے۔ہم پاکستان کے ڈیفنس منسٹر لیاقت علی خان سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد قادیان میں مسلم ملٹری کو بھیجے مغربی پنجاب کے ہر کم کیمپ میں گورکھا ہندو اور سیکھ ملٹری ہے وہاں کیوں پاکستان کی فوج نہیں بھیجی جاتی قادیان میں راشن کی قلت ہے۔ہم مغربی پنجاب کی حکومت اور وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ قادیان میں ٹرینیں بھیجی جائیں جن کے ساتھ اچھی خاصی مسلم ملٹری ہو۔ہر گاڑی کے ساتھ دو انجن ہوں۔ایک آگے ایک پیچھے ، ایک کرین بھی ہو اور پڑی جوڑنے کا سامان