تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 224 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 224

۲۲۲ قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین جمع ہیں جن کو پاکستان لانے کی ضرورت ہے۔قادیان اور اس کے نواحی دیہات کی مفصل رپورٹ جو ہمارے نامہ نگار خصوصی نے قادیان کے دورے کے بعد مرتزر کی ہے درج ذیل ہے۔قادیان کے ساتھ اس کے ملحقہ دیہات بھی جوانمردی کے ساتھ سکھوں کے مسلح جتھوں کی روک تھام کر رہے ہیں۔لیکن یہ بات پوری ذمہ داری اور یقین کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت مسلمانوں کو مشرقی پنجاب سے نکل بھانے پر خود مجبور کر رہی ہے۔قادیان اور اس کے دیہات اس لئے بیٹھے تھے کہ جب تک حکومت خود ہمیں نکل جانے کے لئے نہیں کہے گی ہم اپنے گاؤں خالی نہیں کریں گے۔چنانچہ قادیان کے ذلیل حصلت اور تنہ پرداز سکھ تھانیدار نے پولیس اور ہندو ملٹری کی مدد سے مسلمانوں کے گاؤں زبر دستی ان سے مخالی کروائے اور ان دیہات کے معزز مسلمانوں کو بیحد بیغیرت کیا موضع ڈیریولی کا ذیلدار چودھری سلطان ملک اس علاقے میں بہت ہی عزت دار آدمی تھا۔سکھ تھانیدا اسے قید کر کے قادیان سے آیا جہاں لا کر تھانے میں اس کی مونچھیں کھینچیں۔پھر اُسے سپاہیوں کی حراست میں ڈیری والہ واپس کیا۔اس کے منہ پر کالک اور گندی کیچڑ ملی۔اور سارے علاقہ میں اسے پھرایا۔چوہڑے اس کے منہ پر جوتے مارتے اور تھوکتے تھے اسی طرح کئی معزز مسلمانوں کو ذلیل و خوار کیا بھاتا ہے۔قادیان کے چند معزز شہری جن میں چودھری فتح محمد سیال ایم ایل اے اور زین العابدین سید ولی اللہ شاہ ناظر امور عامه قاریان بھی شامل ہیں گرفتار کئے جاچکے ہیں اور گورداسپور جیل میں اُن کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل قادیان کا ایک معزز شہری چودھری محمد شریف باجوہ بھی گورداسپور جیل میں ہے جس کے ساتھ نہایت بہیمانہ اور انسانیت سوز ظلم کیا جاتا ہے۔کبھی اس کے بدن پر خنجر مارے جاتے ہیں کبھی اس کے منہ میں پیشاب ڈالا جاتا ہے اور کبھی یک لخت اُسے ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے اور سیکھ پولیس کے ظالم سپاہی اور افسر اس سے پوچھتے ہیں " بتاؤ قادیان میں اسلحہ وغیرہ کہاں ہے "