تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 214 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 214

۲۱۲ تھیں لیکن انہیں قادیان کی احمدی آبادی پر حملہ کرنے کی کبھی جرات نہ ہوئی حتی کہ ارد گرد کے مسلمانوں کے تمام دیہات ویران کر دینے کے باوجو د بھی اس وقت تک جرأت نہ ہوئی جب تک پولیس اور ملٹری کھلم کھلا ان کی حمایت میں کھڑی نہ ہو گئی اور ۳ را کتو بہ تک اس کے لئے اس نے پوری تیاری نہ کر لی۔ملٹری اور پولیس بہت بڑی تعداد میں قادیان میں جمع کر لی گئیں۔ٹینسوں سے بندوقیں لے لی گئیں اور متواتر کئی روز تشدد کا سلسلہ جاری کر کے خوف و ہراس پیدا کر نے کی کوشش کی گئی جب یہ سب کچھ کو لیا گیا تو سکھوں کو ہزاروں کی تعداد میں جمع کر کے قادیان پر دھکیل دیا اور ان کی امداد کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی۔حتی کہ بہت سے بیگناہوں کو گولیوں سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔یہ نہتے اور بے بس احمدیوں پر حملہ اور نہایت شرمناک حملہ نہیں تو اور کیا ہے یا اگر پولیس اور فوج سکھوں کی پشت پناہ اور مدد گار بن کہ اس حملہ میں شریک نہ ہوتی تو سیکھوں کو قطعا برات نہ ہوتی کہ احمدیوں کی طرف منہ بھی کر سکتے اور اگر کرتے تو دنیا دیکھتی کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اب فوج اور پولیس کے جبر و تشدد کے ذریعہ قادیان کو خالی کروا کر یہ کہنا کہ احمدی سکھوں کے خون سے اپنے گھروں کو خود خالی کر گئے، حقیقت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش اور سیاہی کے ان دھبوں کو مٹانے کی ناکام سعی ہے جو ان فوجیوں اور پولیس والوں کے ہاتھوں پر لگ چکے ہیں اور جو قیامت تک مٹائے بھی نہ مٹیں گے۔۱۰۔غلاظت اور عفونت کی بھرمار ملٹری اور پولیس نے انتہائی تشدد اور ظلم سے کام لے کر اور گولیوں سے بہت سے بیگناہوں کی جانیں ضائع کر کے قادیان کے مختلف محلوں کے ہزاروں مردوں اور عورتوں اور بچوں کو بورڈنگ کی عمارت اور اس سے ملحقہ بجانب غرب کے گرے پڑے احاطوں میں جب بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا تو ساتھ ہی یہ حکم دے دیا کہ کوئی ادھر ادھر حرکت نہ کرنے پائے وریہ گولی سے اُڑا دیا جائے گا۔اور رات بھر گولیاں چلا چلا کر بتا دیا کہ ملٹری اور پولیس اپنے اس علم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیار کھڑی ہے۔بورڈنگ کے قریب کے میدانوں عمارتوں میں ارد گرد کے دیہات کے ہزار ہا پناہ گزین بہت دنوں سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر