تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 210 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 210

۲۰۸ رہی تھی۔مگر کیا مجال کہ کسی احمدی عورت اور بچے نے کسی قسم کے خوف و ہراس کا اظہار کیا ، یا اضطراب اور بیچینی کا کوئی کلمہ منہ سے نکالا۔ہمارا ہر مرد ، ہر عورت بلکہ ہر بچہ رضا بالقضا کا مجسمہ نظر آرہا تھا اور چپ چاپ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کہ ملٹری اور فوج کا مقابلہ نہیں کرنا بھرے گھروں کو خالی کیا جا رہا تھا کیونکہ ملٹری اور مسلح پولیس ایک ایک مکان پر بجا کر کہہ رہی تھی کہ فوراً مکان خالی کر دو ورنہ گولی چلا دی جائے گی اور سکھ جن کو ہم نے روک رکھا ہے قتل ؟ غارت کا بازار گرم کر دیں گے۔اس ظالمانہ اور وحشیانہ حکم کو بعض جگہ پولیس اور ملٹری نے عملی جامہ بھی پہنایا۔چنانچہ میرے مکان کے بالکل قریب مرزا احمد شفیع صاحب بی۔اے کو گولی مار کو شہید کر دیا گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔جب ظلم و ستم اور جبر و تشدد کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو اکثر لوگ مکان خالی کر دینے پر مجبور ہو گئے اور ایسی حالت میں تعالی کرنے پر مجبور ہو گئے کہ اکثر احباب بالکل خالی ہاتھ نکلے کیونکہ اگر کوئی کچھ لے کر نکلتا تو پولیس اور ملٹری کی موجودگی میں سکھ ٹوٹ لیتے اور ملٹری والے بھی اس میں حصہ دار ہوتے۔- احمدی نوجوانوں کی شجاعت اور جاں نثاری میں اپنے ایک بچے حمید احمد سمیت جو مرکزی حفاظت کا فریضہ ادا کرنے والے نوجوانوں میں شامل تھا اور محلہ کی مخدوش حالت کی اطلاع پا کر اور یہ سُن کر کہ سکھوں کے حملہ کا بہت بڑا نور ہمارے مکان کے پاس ہے میری خیر معلوم کرنے کے لئے گھر آیا تھا اور ہم یہ دیکھ کہ کہ قریب قریب کی عورتیں اور بچھے جاچکے ہیں اپنے مکان سے نکلے اور بابو اکبر علی صاحب مرحوم کی کو بھٹی میں پہنچے جہاں مرکزی حفاظت کرنے والے نوجوان مقیم تھے۔میرے وہاں جانے کے تھوڑی دیر ہی بعد انچارج صاحب کو اطلاع پہنچی کہ ایک مکان میں ابھی تک بہت سی عورتیں اور بچے محصور ہیں اور خطرہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جارہا ہے ان کو بحفاظت نکالنے کا انتظام کیا جائے اس پر انچارج صاحب نے نوجوانوں کو آواز دی اور وہ دوڑتے ہوئے آکر ان کے گرد جمع ہو گئے اور جب انہیں بتایا گیا کہ فلاں مکان میں عورتیں اور بچے موجود ہیں ان کو نکال لائیں تو ایک لمحمد کا توقف کئے بغیر سارے کے سارے نوجوان سین کی تعداد ۱۵-۲۰ سے زیادہ نہ تھی اور