تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 206
اور ساتھیوں کے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانوں سے حضرت صاحبزاد مرزا ناصر احمد صاحب کا اس لئے شکریہ ادا کر کے واپس جا رہے تھے کہ ایک معزز احمدی افسر نے نهایت نازک وقت میں ان کی حفاظت کی اور ان کو بال بچوں سمیت بخیریت محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔۲- ۳ اکتوبر کی درمیانی رات بڑی کثرت سے گولیاں ملتی رہیں۔برین گنیں تڑ تڑا کرتی رہیں یموں کے چلنے کی آوازیں بھی آتی رہیں مصیبت زدہ لوگوں کی چیخ و پکار بھی سنائی دیتی رہی۔اور ساری رات یہ سلسلہ بھاری رہا۔جب دن چڑھا تو میں نے مکان کی چھت پر سے دیکھا کہ ارد گرد کے دیہات سے سیکھ بڑی کثرت کے ساتھ آرہے ہیں اور محلہ دارالرحمت کے قریب کھیتوں میں اور ایک مندر میں جمع ہو رہے ہیں۔جوں جوں دن چڑھتا گیا ان کی تعدادمیں اضافہ ہوتا گیا حتی کہ سینکڑوں سے گزر کر ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔کچھ لوگ قادیان کے ہندو اور سکھوں کے محلوں سے نکل کر بھی ان میں شامل ہوتے نظر آئے اور بعض دیہاتی گھوڑے، نچریں اور گدھے وغیرہ قادیان کی پرانی آبادی سے ہانک کر اپنے گاؤں کی طرف لے جاتے دیکھے گئے سیکھوں کے اس اجتماع کے آگے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا سکھ پولیس کے سوار اور پیدل سپاہی بھی موجود تھے جو ادھر ادھر نقل و حرکت کرتے دکھائی دیتے تھے اور معلوم ایسا ہوتا تھا کہ وہ ڈاکو اور لٹیرے سکھوں کو لوٹ مار اور قتل و غارت سے روکنے اور منتشر کرنے کی بجائے خاص ہدایات دے رہے اور احمدیہ آبادی پر حملہ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔لٹیرے پولیس کے پاس سے گزرتے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر آگے بڑھے بجاتے۔عین اس وقت جب پولیس کی موجودگی میں بے میں دبے کس مسلمانوں پر ستم ڈھانے کے لئے یہ تیاریاں کی بھا رہی تھیں۔کئی ہزار سکھ تلواریں چھکا چھکا کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور کمریں کس کر تیار یہ تیار کھڑے تھے۔میں نے دیکھا کہ میں اس جگہ سے جہاں پولیس کے سپاہی کھڑے تھے کچھ سکھ تلواریں سونت کر نکلے اور حملہ کی طرف بڑھنے لگے اور جب انہوں نے دیکھا کہ سامنے ایک بوڑھا آدمی پاخانے بیٹھا ہوا ہے تو للکارتے ہوئے اس پر پل پڑے اور وہیں اسے قتل کر دیا۔اس کے بعد وہ دو تین اور آدمیوں کی طرف بڑھے کہ وہ بھی پاخانہ کرنے بیٹھے تھے مگر انہوں نے حملہ آوروں کو ذرا دور سے دیکھ لیا اور بھاگ کہ