تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 194 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 194

۱۹۲ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں تمیں احمدی مارے گئے ہیں ہمیں ایک گڑھے کا علم ہے جس میں چالیس احمدیوں کی لاشیں دبائی گئی ہیں۔پہلے ہم ابھی آپ کو وہ چالیس لاشیں دکھانے کے لئے تیار ہیں اور اس کے علاوہ ہم اور بھی کئی گڑھے دکھا سکتے ہیں جن میں احمدیوں کو دفن کیا گیا ہے۔اس پر جنرل تھمایا خاموش ہو گئے دیگر تعصب کا بڑا ہو کہ ریڈیو کے اعلان سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے جا کر رپورٹ یہی دی ہے کہ قادیان پر معمولی حملہ ہوا۔دونوں طرفت کے ساٹھ آدمی مارے گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون) نہایت ذلیل ترین حرکت جو کوئی قوم کر سکتی ہے وہ مردوں کی ہتک ہے۔ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے بعد کیا ہندو اور سکھ قوم یہ نہیں تے سمجھ سکتی تھی کہ مسلمانوں میں جنازہ کے متعلق کیا احکام ہیں۔وہ کس طرح غسل دیتے، کفن پہنانے جنازہ پڑھتے اور پھر اپنے مُردوں کو دفن کرتے ہیں مگر ان اسلامی رسوم کے ادا کرنے سے بھی ہمیں محروم کر دیا گیا اور ہماری لاشوں کو بغیر اس کے کہ ہم ان کا جنازہ پڑھتے گڑھوں میں دیا دیا گیا۔ہمارے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا طریق تو یہ تھا کہ جنگ احتساب کے موقعہ پر جب کفارہ کا ایک لیڈر خندق میں گرا اور وہیں مارا گیا تو مکہ والوں نے کئی ہزار روپیہ اس غرض کے لئے پیش کیا کہ اس شخص کی لاش ہمیں دے دی بھائے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا کہ ہم نے تمہارا مروہ رکھ کر کیا کرتا ہے تم اس کو اُٹھا کر لے جاؤ اور اپنا روپیہ بھی اپنے پاس رکھو۔لیکن یہ وہ گورنمنٹ ہے جو کہتی ہے کہ ہم ایک بڑے ملک کی گورنمنٹ ہیں جو کہتی ہے کہ رعایا ہماری فرمانبردار رہے۔کیا یہی طریقے فرمانبرداری کے حصول کے ہوتے ہیں اور کیا یہ طریق حکومت کرنے کے ہوتے ہیں کہ بیگناہ شہریوں کو مارا بھائے، بے قصور شہریوں کو قتل کیا جائے اور پھر ان کی لاشوں کی تذلیل کی بجائے اور گڑھوں میں بغیر گور و کفن کے دفن کر دیا جائے۔بہر حال وہ مرنے والے مرگئے اور ہر حالت میں انہوں نے مرنا ہی تھا۔اب وہ ہماری یادگار اور ہماری تاریخ کی امانت ہیں اور ہماری محبت ان کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے گی اور اگر وہ بے نام ہیں تب بھی وہ احمدیہ تاریخ میں زندہ رہیں گے اور احمدی نوجوان ان کے واقعہ کو اپنے سامنے رکھ کر ہمیشہ قربانی کی روح اپنے اندر تازہ رکھیں گے۔پس وہ مرے نہیں زندہ ہیں۔خدا کرے اُن کی