تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 192
14۔اور بڑھیا کو تلاش کر کے تختے پر پڑھانے کی کوشش کی لیکن شدید زخموں کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا اور دو تین کوششوں کے بعد نڈھال ہو کر گر گیا۔اس پر میاں عبد الحق حیات نے کہا کہ میں جاکر ان دونوں کے بچانے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ کود کر اس تختہ پر چڑھ گئے۔ان کو دیکھتے ہی ایک پولیس میں دوڑا ہوا آیا اور ایک پاس کے مکان سے صرف چند فٹ کے فاصلہ پر سے ان کی کمر میں گولی ماردی اور وہ وہیں فوت ہو گئے۔جب حملہ آور سیگل بجنے پر دوڑ گئے تو زخمی غلام محمد صاحب اور اس بڑھیا کو اس مکان سے نکالا گیا۔چونکہ ہسپتال پر پولیس نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے مریضوں کو زیر دستی نکال دیا ہے اور تمام ڈاکٹر یا آلات دوائیاں وہاں ہی پڑی ہیں، مریضوں اور زخمیوں کا علاج نہیں کیا جا سکتا اور یوں بھی غلام محمد صاحب شدید زخمی تھے معمولی علاج سے بچ نہ سکے اور چند گھنٹوں میں فوت ہو گئے مرنے سے پہلے انہوں نے ایک دوست کو بلایا اور اسے یہ باتیں لکھوائیں کہ ” مجھے اسلام اور احمدیت پر پکا یقین ہے۔میں اپنے ایمان پر قائم جان دیتا ہوں۔میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں اسلام کے لئے بھان دوں گا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جس مقصد کے لئے بھان دینے کے لئے آیا تھا میں نے اس مقصد کے لئے بھان دے دی۔جب میں گھر سے پھلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا دیکھنا پیٹھ نہ دکھانا۔میری ماں سے کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری وصیت پوری کر دی اور پلیٹ نہیں دکھائی اور لڑتے ہوئے مارا گیا چونکہ ظالم پولیس نے سب راستوں کو روکا ہوا ہے مقتولین کو مقبروں میں دفن نہیں کیا جا سکا اس لئے جو لوگ فوت ہوتے ہیں یا قتل ہوتے ہیں انہیں گھر وں میں ہی دفن کیا جاتا ہے ان نوجوانوں کو بھی گھروں میں ہی دفن کرنا پڑا۔اور میاں غلام محمد اور عبد الحق دونوں کی لاشیں میرے مکان کے ایک صحن میں پہلو بہ پہلو سپر د خاک کر دی گئیں۔یہ دونوں بہادر اور سینکڑوں اور آدمی اس وقت منوں مٹی کے نیچے دفن ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوم کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔مرنے والے مرگئے۔انہوں نے بہر حال مرنا ہی تھا۔اگر اور کسی صورت میں مرتے تو ان کے نام کو یاد