تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 183 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 183

JAI ہے حقیقت میں وہ بیکار نہیں ہوگی۔وہ قربانی جو قادیان کے احمدی پیش کریں گے وہ پاکستان کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئے گی۔اور اگر ہندوستان یونین نے اب بھی اپنا رویہ بدل لیا تو اس کا یہ رویہ ایک پائیدار صلح کی بنیاد رکھنے میں محمد ہوگا۔جماعت احمدیہ کمزور ہے۔وہ ایک علمی جماعت ہے۔وہ فوجی کاموں سے ناواقف ہے۔لیکن وہ اسلام کی عزت قائم رکھنے کے لئے اپنے نا چھیتر خون کو پیش کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ہمارے سینکڑوں عزیزہ بھاگتے ہوئے نہیں اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور شاید اور بھی مارے بھائیں۔کم سے کم لوکل حکام کی نیت یہی معلوم ہوتی ہے کہ سب کے سب مارے جائیں لیکن ہم خدا تعالیٰ سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے گا اور ہمارے دلوں کو سبر اور ایمان بخشے گا۔ہمارے مارے جانے والوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی وہ ہندو ستان میں اسلام کی بڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئیں گی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو خاکسار مرزا محمود احمد !! پہلے مضمون کے بعد قادیان کے حالات جلد جلد پلٹا کھانے سینا اصلح موعود کا دوسرا مضمون تھے جس پر حضور نے قادیان " ہی کے عنوان سے سب لگے پر " " حسب بعنوان "قادیان میں سو مضمون ہو تو سلم فرمایا۔(بقیہ معاشی نہ گذشتہ کی تفصیلات کے اعداد وشمار بھی فراہم کئے گئے ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ قادیان کے معاملے نے مشرقی پنجاب کی حکومت اور حکومت ہند کی بدنیتی اور فساد پر وری کا بھانڈا پورا ہے میں پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔بعض دوسرے واقعات کے متعلق وہ لوگ لاعلمی کا اظہار کر سکتے ہیں۔لیکن قادیان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں واقعات کا علم نہ تھا۔کیونکہ ہر مرحلے پر ہر متعلقہ حاکم اور وزیر کو اطلاع دی گئی۔اخباروں میں شور مچایا گیا لیکن جالندھر اور دہلی والوں نے ایسی چپ سادھی گویا سازش کر رکھی ہے۔قادیان کے معاملے میں حکومت ہندا در حکومت مشرقی پنجاب پر غفلت اور سنگدلی اور مسلم کشی کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔قادیان والے تقسیم پنجاب کی رو سے مشرق میں رہ گئے تھے اور امن وامان سے رہنے کا عہد کو چھکے تھے لیکن انہیں بھی وہاں نہ رہنے دیا گیا اور ان کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہ کیا گیا" و پر در روزنامہ انقلاب لاہور 4 جنوری ۱۱۷ صفحه (1) " له الفضل" در اتحاد / اكتوبر له مش صفحه ۱-۲ م ١٩