تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 182
باشندے انسانوں کے ڈر کو دل سے نکال کر پولیس ، ملٹری اور سکھ چھتوں کے مشترکہ جملوں کو برداشت کرتے چلے گئے لیکن اس تمام لیے زمانہ میں حکومت کی طرف سے کوئی قدم اصلاح کا نہیں اُٹھایا گیا۔ان واقعات کی موجودگی میں ہندوستان یو نین یہ نہیں کر سکتی کہ ہمیں اصلاح کا موقعہ نہیں ملا۔شاہ تی ہے۔اپنے مقدس مقامات کو یونہی چھوڑ دینا ایک گناہ کی بات ہے جب تک تما یمکن انسانی کوششیں اس کے بچانے کے لئے تخریج نہ کی جائیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کام میں احمدیہ جانت کو بہت سی قربانی کرنی پڑے گی اور بظاہر دنیا کو وہ بیکار نظر آئے گی لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا ا جاتا امیدی کی طرف سے کس طرح ہر حد پر بھرتی کیا اوراس کے دانوں کو مطلع اور پانی رکھا اورقیام اس کے ت لئے اپیلیں کیں ، تار دیئے ، وفود بھیجے۔اسکی کی تفصیل حضرت قمر الا نبیاء نے ایک کتابچہ PADIAN A TEST CASE" میں نہایت جامعیت کے ساتھ شائع فرما دی تھیں۔روزنامہ " انقلاب " نے اس رسالہ پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ شائع کیا تھا :- تنقید و تبصره قادیان ایک آزمائشی کھیں۔A TEST CASE QADIAN مرکزی انجمن احمدیه در رتن باغ (لاہور) کے چیف سیکرٹری صاحب نے سو صفحے کے اس پمفلٹ میں یہ بتایا ہے کہ ۱۲ اگست سے لے کر اب تک قادیان میں کیا کچھ قتل ، خون ، لوٹ مار گرفتاریاں ہوئیں۔ناظر امور عامہ قادیان نے ۱۲ ستمبر کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو ایک مفصل چٹھی لکھی جس میں قادیان کے واقعات بیان کر کے ان کے تدارک کی طرف توجہ دلائی۔مرزا بشیر احمد صاحب نے سردار سورن سنگھ کو مراسلہ بھیجا۔ناظر امور عامہ نے سردار پٹیل کو چھٹی لکھی۔پھر ، اکتوبر کو پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھا۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے پنڈت سندر لال کی وساطت سے گاندھی جی کو ایک بیان بھیجا۔پھر چیف سیکر ڈی چیمپین احمدیہ نے ڈپٹی کشترا اور علاقہ مجسٹریٹ کو خط لکھے۔پھر پنڈت جواہر لال نہرو کو تار دیا۔ہائی کمشنر مٹری پی ان کو چھٹی لکھی۔پھر ناظر امور خارجہ نے پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھا۔ان تمام مراسلات میں قادیان کے حوادث کی اطلاع دی گئی اور بتایا گیا کہ ہم پر امن ہیں۔پر امن رہنا چاہتے ہیں۔حکومت کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیئے۔لیکن ہمارے ہاں بے شمار آدمی مارے بھا چکے ہیں سینکڑوں عورتیں اغوا کی جاچکی ہیں۔قتل و خون کا بازار گرم ہے۔ہماری جائیدادیں کوئی جارہی ہیں۔اگر آپ کہیں تو ہم قادیان چھوڑ کر چلے جائیں۔اگر آپ یہ کہنے کے لئے تیار نہیں تو ہماری حفاظت کا انتظام کیجئے۔لیکن ان تمام خطوط کا کسی نے جواب نہ دیا۔اس پمفلٹ میں قادیان اور اس کے نواحی دیہات کی تباہی ، مساجد کے انہدام ، قتل و جوع اور ٹوٹ یار دیقیہ حاشیہ اگلے صفر پر) "