تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 181 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 181

149 ہوم منسٹر مشرقی پنجاب کو لکھا تھا جس کا مضمون یہ تھا کہ مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا ہے۔اب صرف قادیان باقی ہے۔یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے اور احمدیہ جماعت کا مقدس مذہبی مرکز ہے۔اسے تباہ کرنے میں مجھے کوئی حکمت نظر نہیں آتی۔اگر اس کی حفاظت کی جائے تو یہ زیادہ معقول ہوگا۔پھر ڈپٹی ہائی کمشنر کے مشورہ سے احمدیہ جماعت کا ایک وفد بجالندھر گیا اور ڈاکٹر بھار گوا صاحب اور سردار سورن سنگھ صاحب سے بلا اور چوہدری لہری سنگھ صاحب سے ملا۔ان لوگوں نے یقین دلایا کہ وہ احمدیہ جماعت کے مرکز کو ہندوستان یونین میں رہنے کو ایک اچھی بات سمجھتے ہیں۔اچھی بات ہی نہیں بلکہ قابل فخر بات سمجھتے ہیں اور یہ کہ فوراً اس معاملہ میں دخل دیں گے۔پھر اس بارہ میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھی متواتر تاریں دی گئیں مسٹر گاندھی کو بھی متواتر تاریں دی گئیں۔بہت سے ممالک سے ہندوستان یونین کے وزراء کو تاریں آئیں ؟ انگلستان کے نومسلموں کا وفد مسٹر ہینڈرسن سے جو ہندوستان کے معاملات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ملا۔مسٹر وجے لکشمی پنڈت نے بھی اپنے بھائی کو تار دی۔اس عرصہ میں قادیان کے بہادر ہ اس ملاقات کی خبر اخبار ” نوائے وقت لاہور نے اپنی بر ستمبر کہ ان کی اشاعت میں بھی دی تھی جو یہ تھی :- مشرقی پنجاب کے وزیر اعظم سے احمدیوں وفد کی ملاقات لاہور ستمبر آج احمدیوں کے ایک وفد نے مشرقی پنجاب کے وزیر اعظم ڈاکٹر گوپی چند بھارگو اور سردار سورن سنگھ سے ملاقات کرکے قادیان کے عوام پر حکومت کے ناجائز تشدد کا شکوہ کیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر بھارگو اور سورن سنگھ نے اس وفد کو یہ یقین دلایا ہے کہ مشرقی پنجاب کی حکومت مسلمانوں کے مکمل اخراج کی خواہاں نہیں ہے “ (نوٹ : یہ پہلا وفد حسب ذیل ارکان پرمشتمل تھا۔حضرت نواب محمد الدین صاحب چوہدری اسد اللہ خان صاحب جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور، یہ و قد ۲۳ تبوک استمیز یہ پیش کو جالندھر میں مشرقی پنجاب کے وزراء اور وفد پر ہوم منسٹر سے ملا) کے اخبار انقلاب لاہور ۲۰ ستمبر ۱۹۴۷ به صفحه ۲ پر گاندھی بھی کو مرکزی انجمین احمدیہ کا تار کے عنوان سے حسب ذیل خبر شائع ہوئی :- اہور - ۸ استمبر پاکستان کی مرکزی جماعت احمدیہ نے گاندھی جی کی اس تجویز کا ولی خیر مقدم کیا ہے کہ آبادی کا بدلہ نہ کیا جائے سکرٹری صاحب نے جوتا گاندھی جی کو بھیجا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری متعلقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے جو حکومت اس ذمہ داری سے عہدہ یہ آنہیں ہو سکتی وہ دنیا کی نظروں میں عملوا مستور نہیں ٹھہر سکتی۔اور آبادی کا تبادلہ حکومتوں کو دیوالیہ بناکر رکھ دیگا۔وہ احمدی جن کے گھر مشرقی پنجاب میں ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس پہلے جانے پہ آمادہ ہیں۔گاندھی جی سے استدعا کی گئی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو معرض استعمال میں لاکر ان لوگوں کی حفاظت کا انتظام کرائیں" (اوپی)