تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 180
16A میں سردار سمپورن سنگھ صاحب ڈپٹی ہائی کمشنر ہندوستان یونین سے ملا اور متعدد بار ملا۔انہوں نے یقین دلایا کہ انہوں نے افسران کی توجہ کو اس طرف پھر ایا ہے اور انہوں نے ایک خط بھی دکھایا تو انہوں نے ڈاکٹر بھا گوا صاحب وزیر اعظم مشرقی پنجاب اور سردار سورن سنگھ صاحب ربقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) میری جماعت تو مجھے لیڈر اس لئے مانتی ہے کہ لیکن معقول آدمی ہوں۔وہ مجھے کہیں گے صاحب ! ہم نے آپ کو معقول آدمی سمجھ کے اپنا لیڈر بنایا تھا۔یہ کیا بیوقوفی کہ رہے ہیں کہ چاروں طرف سے ہندو اور سکھ حملہ کر رہا ہے اور مار رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس کوئی ہتھیار نہ رکھو۔آپ یہ بتائیں کہ ہم جان کیسے بچائیں گے۔کہنے لگے ، کہیے ہم بچائیں گے حکومت بچائے گی۔جب انہوں نے کہا حکومت بچائے گی تو میں نے کہا ، بہت اچھا۔میں اس وقت اپنے ساتھ تمام علاقہ کا نقشہ نے گر گیا تھا۔نہیں نے کہا۔قادیان کے گرداشی گاؤں پر حملہ ہو چکا ہے جو ہندوؤں اور سکھوں نے بھلا دیئے ہیں اور لوگ مار دیتے ہیں۔لیکن یہ نقشہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب میں ان سے کہوں گا کہ دیکھو اپنے پاس ہتھیار نہ رکھو کیونکہ حکومت تمہیں بچائے گی تو وہ کہیں گے کہ سب سے آخری گاؤں جو حد پر تھا جس پر حملہ ہوا تو کیا گورنمنٹ نے اسے بچایا۔یکن کہوں گا۔ارے گورنمنٹ خدا تھوڑی ہی ہے اسے آخر آہستہ آہستہ پتہ لگتا ہے کچھ عقل کرو۔دو چار دن میں گورنمنٹ آجائے گی۔پھر وہ اگلے گاؤں پہ ہاتھ رکھیں گے اور کہیں گے تین دن ہوئے یہ گاؤں جلا تھا۔کیا گورنمنٹ نے مسلمانوں کو کوئی امداد دی۔میں کہوں گا بغیر کچھ دیر تو لگ جاتی ہے تو وہ اگلے گاؤں پہ ہاتھ رکھیں گے۔اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ دیر لگنا ضروری ہے۔مگر اس گاؤں پر حملہ کے وقت حکومت نے حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا میں نے کہا۔یہ انشتی گاؤں ہیں۔اتنی گاؤں پہ پہنچی کہ وہ مجھے فاتر العقل سمجھنے لگ جائیں گے یا نہیں کہ مجھے گاؤں ہم پیش کر رہے ہیں ان میں سے کسی پر بھی حملہ ہوا تو حکومت نہیں آئی۔شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ امن قائم رکھوں گا۔میں نے کہا کتنی دیر میں کہنے لگے پندرہ دن میں پندرہ دن میں رہیں بھی چلا دیں گے تاریں بھی کھل جائیں گی۔ڈا کھا نے بھی کھل جائیں گے اور ٹیلیفون بھی جاری ہو جائے گا۔آپ چند دن صبر کریں۔میں نے کہا۔بہت اچھا ہم صبر کر لیتے ہیں۔لیکن جب پندرہ دن ختم ہوئے تو آخری حملہ قادیان پر ہوا جس میں سب لوگوں کو نکال دیا گیا۔پھر ان حملوں میں بچے مارے گئے اور ایسے ایسے ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے کہ بچوں کے پیٹوں میں نیزے مار مار کے انہیں قتل کیا گیا ہم نے اس وقت تصویریں لی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بچوں کے ناک کاٹے ہوئے ہیں۔کان چھرے ہوئے ہیں۔پیٹ چھا ہوا ہے۔انتڑیاں باہر نکلی ہوئی ہیں اور وہ تڑپ رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے کچھ چھ مہینہ کے اور سال سال کے تھے جن پر نیٹ سلم کیا گیا ہے سیر روحانی جلد سوم صفحه ۲۵۳ تا ۲۵۵)