تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 177 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 177

۱۷۵ ان محلوں کے احمدی سمٹ کر دوسرے محلوں میں پچلے گئے ہیں۔اور یہ گولی پولیس اور ملٹری کی طرف سے چلائی جارہی ہے۔اس خبر کے سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات سنی۔اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا۔ہم میں یہ تو اطلاع تھی کہ بھینی پر سکھ حملہ کر رہے ہیں مگر یہ اطلاع نہیں تھی کہ قادیان پر سکھ حملہ کر رہے ہیں۔گویا بھیتی میں انسان نہیں بستے اور وہ ہندوستان یونین کے شہری نہیں اور اس لئے بھینی میں مسلمانوں کا خون بالکل ارزاں ہے۔اس پر ڈی سی سیالکوٹ نے کہا۔اب آپ کیا کا روائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو ڈی سی گورداسپور نے جواب دیا کہ میں کل سپرنٹنڈنٹ پولیس کو وہاں بھیجھاؤں گا۔ڈی سی سیالکوٹ نے ان کو کہا۔یہ اس قسم کا اہم معاملہ ہے کہ اس میں آپ کو خود جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ خود کیوں نہیں جاتے۔انہوں نے کہا۔اچھا ئیں خود ہی جاؤں گا۔اس کے بعد قادیان سے فون پر حالات معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔اور اتفاقاً فون مل گیا جو اکثر نہیں ملا کرتا۔اس فون کے ذریعہ جو حالات معلوم ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ کل تک ۱۵۰ آدمی مارا جا چکا ہے جن میں سے دو آدمی مسجد کے اندہ مارے گئے ہیں۔احمدیہ کالج پر بھی پولیس اور ملٹری نے قبضہ کر لیا ہے اور دو احمدی محلے اُٹھوا دیئے ہیں۔دارالا نوار اور دارالرحمت۔دارالا نوار میں سر ظفر اللہ خان کی کوٹھی بھی اور امام مہتے احمدیہ کا بیرونی گھر بھی ٹوٹا گیا ہے۔لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اب ان باتوں کا نتیجہ کیا ہوگا۔جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں، احمدیہ جماعت کا یہ مسلک نہیں کہ وہ حکومت سے محکمہ کھائے۔اگر سیکھ سجھتے ایک ایک احمدی کے مقابلہ میں سو سو سکھ بھی لائیں گے تو قادیان کے احمدی ان کا مقابلہ کریں گے اور آخردم تک ان کا مقابلہ کریں گے۔لیکن جہاں جہاں پولیس اور ملڑی حملہ کرے گی وہ ان سے لڑائی نہیں کریں گے۔اپنی جگہ پر چھٹے رہنے کی کوشش کریں گے۔مگر جس جگہ سے ملی اور پولیس ان کو زور سے نکال دے گی اس کو وہ خالی کر دیں گے اور دنیا پر یہ ثابت کر دیں گے کہ مہندران یونین کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے کہ جو ہندوستان یونین میں رہنا چاہے خوشی سے رہ سکتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ لوگ اپنے آدمیوں کی جائیں کیوں خطرہ