تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 176
۱۷۴ تھے اور جن کے مبلغ اور گریجوایٹ ارد گرد کے سکھوں کے دیہات پر جھا کہ ڈاکے مار رہے تھے کیا دنیا کا کوئی شخص اس کو تسلیم کر سکے گا کہ یہ با ہر نکل نکل کر ڈا کے مارنے اور قتل کرنے والے لوگ ان سکھ جتھوں سے ڈر کر جن کے مالوں کو ٹوٹنے کے لئے وہ باہر جاتے تھے اپنے مکان چھوڑ دیں گے اور ملٹری اور پولیس بھی ان بہادر سکھوں کے مقابلہ میں بے کار ہو جائے گی۔جن کے گاؤں پر دو دو احمدی بھا کہ ڈاکہ مارنے کے قابل ہو سکے اور جنہیں سلسلہ احمدیہ کے بڑھنے سیکرٹری ارد گرد کے علاقہ میں گولیوں کا نشانہ بناتے پھرتے تھے۔ہر عقلمند انسان اس بات کو تسلیم کرے گا کہ دونوں کہانیوں میں سے ایک کہانی جھوٹی ہے اور یا پھر دونوں ہی جھوٹی ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کہانیاں ہی جھوٹی ہیں۔کہہ آج ہندوستان کی یونین کے افسر حکومت کے نشہ میں اس قسم کے افتراء کو معقول قرار دے سکتے ہیں مگر آئندہ زمانہ میں مورخ ان کہانیوں کو دنیا کے بدترین جھوٹوں میں سے قرار دیں گے۔احمدیہ جماعت قادیان میں بیٹھی ہے اور اپنے عقائد کے مطابق بار بار حکوت کو کہ چکی ہے کہ ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر تم ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے تو ہمیں حکم دے دو۔پھر ہم تمہارے اس حکم کے متعلق غور کر کے کوئی فیصلہ کریں گے۔لیکن ہندوستان یونین کے افسر ایسا نہیں کرتے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے ان کی ناک کٹ بھائے گی اور وہ دنیا میں ذلیل ہو جائیں گے۔وہ گولیوں کی بوچھاڑوں اور پولیس اور ملٹری کی مدد سے بغیر کسی آئینی وجہ کی موجودگی کے احمدیوں کو قادیان سے نکالنا چاہتے ہیں۔چنانچہ تازہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ چند دن سے قادیان جانے والی لاریوں کو سٹرک کی خوابی کے بہانہ سے روکا بھا رہا ہے۔لیکن اصل منشاء یہ ہے کہ دنیا سے قادیان کو کاٹ کر وہاں من مانی کاروائیاں کی جائیں۔چنانچہ ہفتہ اور اتوارکی درمیانی رات کو جبکہ سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر سے انتظامی معاملات کے متعلق فون پر بات کر رہے تھے۔انہیں یکدم قادیان کے فون کی آوانہ آئی اور معلوم ہوا کہ قادیان کا کوئی شخص ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو فون کر رہا ہے۔وہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو یہ اطلاع دے رہا تھا کہ دو دن سے یہاں گولی پھلائی جا رہی ہے۔قادیان کے دو محلوں کو لوٹا جا چکا ہے اور