تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 172
K۔۱۰ بے دردی کے ساتھ باہر نکال کر ہسپتال کا قبضہ ایک ہندو ڈاکٹر کو دے دیا گیا اور بعد میں ایک سیکھ ڈاکٹر کو اس کا انچارج بنا دیا گیا ہے ار اکتوبر ۱۹۴۷ئر مسجد اقصی پر پھر بمباری کی گئی بھاریوں میں سے دو نے پھٹ کر مسجد کے فرش کو نقصان پہنچایا۔اور ایک بم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد بزرگوار کی عین قبر کے پاس گرا مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ پھٹا نہیں ہے عزیزم مرزا رشید احمد کی بیوک کا ر ضبط کر لی گئی۔اس سے قبل ملک عمر علی صاحب ہی۔اسے کی پرائیویٹ کالہ بھی ضبط کر لی گئی تھی۔اس طرح جماعت کے دو بھاری ٹرک اور دو پندرہ ہنڈرڈ ویٹ والے لڑک بھی ضبط کر لئے گئے۔اسی طرح بعض اور موٹر گاڑیاں بھی حکومت کی ضرورت کا بہانہ رکھ کر ضبط کرلی گئیں۔۱۴ اکتوبر ۱۹۹۴۷ در و ۱۹۴۷ له حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اسے ، کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب کی اسکویٹ میں لاہور آگئے اور ان کی جگہ قادیان میں مولوی جلال الدین حصان شمس سابق امام مسجد لنڈن کو امیر مقامی مقرر کیا گیا ہے ے اور تا ۱۹ اکتوبر کے بعض ضروری واقعات : 4 اکتوبر۔قادیان سے پانجھے بتدریعہ فون یہ اطلاع موصول ہوئی " ہم لوگ گندم ابال کر کھا رہے ہیں۔پناہ گزینوں کو گندم ابال کر بوریوں میں ڈال کو پہنچا دیگی اگر ہمیں فون کرنا ہو تو گورداسپور فون کیا جائے تو ۳۷ نمبر پر گھنٹی بجتی ہے اور ہم لوگ MESSAGE من لیتے ہیں ورنہ دوسرے طریقہ سے فون نہیں ہو سکتا ہمارے گھروں میں عورتوں اور بچوں کی کثرت کی وجہ سے تعفن بہت پیدا ہو گیا ہے (یا دور ہے اس روز آٹھ دس ہز ار سلم پناہ گزینوں کا قافلہ قادریا سے روانہ ہوا تھا اور اٹی ہوئی گندم کی بوریاں جس کا ذکر فون کے ابتدا میں کیا گیا ہے اسی قافلہ کے پناہ گزینوں کو پنچائی گئی تھیں ، اکتوبر۔ایک پاکستانی بہاز نے جس پر برین گن کے گولے برسائے گئے حسب ذیل رقعہ پھینکا " میاں صاحب ! السلام علیکم، کنوائے بٹالہ سے واپس کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل بھی تین دفعہ کا نوائے واپس کئے جاتے رہے ہیں کینوائے بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے۔در اکتوبر تعلیم الالا کے یہاں سکو نیشنل کالی کے سپرد کر دیا گیا۔۱۹ اکتوبر۔پندرہ سولہ سکھوں نے صبح اندھیرے میں حملہ کر دیا۔گولیاں چلائیں اور تین ہم ایسے مکان پر پھینے کے جہاں احمدی مستور است ناہ گزین تھیں۔ے۔یہ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ہم دلیسی ساخت کے تھے جین اس وقت بھبکہ مسجد اقصی پر بمباری کی جا رہی تھی محلہ دارالعلوم کے عقب سے بورڈنگ تحریک جدید پر بھی فائر ہونے شروع ہو گئے : (مرتب) سے اسی روز (۱۴ ماہ اعضاء کو جامعہ احمدیہ کی عمارت (واقع گیسٹ ہاؤس دارالانوار ) پر ملٹری نے قبضہ کر لیا۔اور اس میں مقیم طلبہ کو زبر دستی باہر نکال دیا۔یہ طلبہ حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب کے مکان میں منتقل ہو گئے اور ان کے بعد جامعہ کی بیش قیمت لائیبریہ کی نذر آتش کر دی گئی ہے