تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 169
196 بھی تھے یا جو اپنے مکان کی ڈیوڑھی میں پولیس کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنے مگر ظالم دشمنوں نے شہید احمدیوں کی لاشیں تک نہیں لینے دیں تاکہ ان کی شناخت اور صحیح تعداد کو مخفی رکھا جا سکے اس دن حملہ آوروں نے لاکھوں روپے کا سامان احمدیوں کے گھروں سے ٹوٹا۔اس قسم کے نازک حالات میں بیرونی محلہ جات کے صدر صاحبان نے جماعت کی حفاظت ( خصوصاً عورتوں اور بچوں کی حفات) کے خیال سے یہ ضروری سمجھا کہ قادیان کی احمدی آبادی کو بعض مخصوص جگہوں میں سمیٹ کر محفوظ کر لیا جائے۔چنانچہ ایک حصہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں جمع ہو گیا اور دوسرا دار سیح اور مدرسہ احمدیہ اور اس کے ملحقہ مکانات میں بند ہوگیا۔ہزارہا انسانوں کے تھوڑی سی جگہ میں محصور ہو جانے سے صفائی کی حالت نہایت درجہ ابتر ہو گئی اور بعض میگہ پہ ایک ایک فٹ تک بنجاست جمع ہو گئی جیسے احمدی مقدام نے خود خاکروبوں کی طرح کام کر کے گڑھوں میں بند کیا۔دوسری طرف آٹے کی مشینوں کے بند ہونے کی وجہ سے جہاں اکثر حصہ آبادی کا گندم اُبال اُبال کر کھا رہا تھا وہاں بیماروں اور دودھ پلانے والی عورتوں اور چھوٹے بچوں کے واسطے آٹا مہیا کرنے کے لئے بہت ے جناب مرزا عزیز احمد صاحب (ابن مرز اعطاء اللہ صاحب ) تحریر فرماتے ہیں کہ برادرم مرزا احمد شفیع صاحب حضرت مرزا محمد شفیع صاحب (محاسب صدر انجمین احمدیہ) مرحوم و مغفور کے بڑے صاحبزادے تھے۔آپ اگست سہ میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی نہایت متین اور کم گو واقع ہوئے تھے۔طبعاً بہت ذہین تھے اور اس کے علاوہ علم کا شوق بھی بہت تھا۔علم ریاضی کے خاص طور پر ماہر تھے برا نہ میں آپ نے اعلیٰ نمبروں سے میٹرک پاس کیا۔چونکہ حساب کی طرف خاص رغبت تھی اس لئے ایف۔اے اور بی۔اسے میں ڈبل میتے لے کر اعلیٰ نمبروں سے ڈگری حاصل کی طبیعت صد درجہ سادہ تھی اس لئے بورڈنگ میں رہنے کے باوجود اور کالج کی زندگی گزارنے کے بعد بھی آپ نے وہاں کے ماحول کا کوئی اثر نہ لیا اور نہایت ہی سادگی سے یہ ایام گزارے۔ڈگری حاصل کرنے کے بعد 19 میں آپ ٹریننگ کالج لاہور میں ا۔A۔حمد کی ٹریننگ کے لئے داخل ہو گئے۔یہاں آپ نے ایک سال میں ٹریننگ مل کر لی۔اس وقت سے آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں بطور اُستاد کے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔سلسلہ کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔نماز با جماعت اور خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے رہے۔ہر قسم کے چندوں اور خصوصاً تھر یک بعدید میں ہر سال اضافہ کے ساتھ حصہ لیتے رہے۔اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے فرائض کو نہایت احسن طور پر نبھاتے رہے اور آخرم اکتوبر نہ کو اپنے مرکز اپنے جان سے پیارے قادیان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے محبوب حقیقی کی گود میں جا بیٹھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔A۔" بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر و الفضل ۱۳ فتح دسمبر پیش صفه (۴)