تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 168 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 168

حملہ آوروں کا ایک متفقہ محلہ مسجد فضل قادیان میں بھی گھس آیا اور لوٹ مچھائی۔موضع بھینی بانگر متصل محله دارد البرکات و دارالا نوار قادیان پر سکھ جتھوں نے حملہ کیا ہندو مسٹری موقعہ پر موجود تھی مگر ہوا میں فائر کرنے کے سوا اس نے عملہ کے روکنے میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اور ۳-۲ اکتوبر کی درمیانی شب قریباً ساری رات گولیاں چلتی رہیں۔بھینی کی کئی مسلمان عورتیں اغوا کرلی گئیں اور گاؤں خالی کرا لیا گیا ہے ۲ اکتوبر ۱۹۱۴ئد - ۲ اور ۱۳ اکتوبر کی درمیانی شب کو قادیان کی مسجد اقصیٰ (یعنی منارة المسیح والی جامع مسجد میں بم پھینکا گیا جو ایک قریب کے مہند و مکان کی طرف سے آیا تھا۔اس بم سے موذن مسجد کا لڑکا بری طرح زخمی ہوا۔اور دشمن نے ہمیں بتا دیا کہ ہم مسلمانوں کے جان مال اور عزت ہی کے پیاسے نہیں بلکہ ان کی مقدس جگہوں کی بیحرمتی کے واسطے بھی تیار ہیں۔۳ اکتوبر ۱۹ سر۔یہ دن قادیان کی تاریخ میں خصوصیت سے یاد گار رہے گا کیونکہ اس دن دشمنوں کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور لوٹ مار اور قتل و غارت اور اغوا کے واقعات بھیانک ترین صورت میں ظاہر ہوئے۔سب سے پہلے آٹھ اور نو بجے صبح کے درمیان قادیان کی عربی بجانب سے محلہ مسجد فضل پر ہزار ہا سکھوں نے پولیس کی معیت میں حملہ کیا اور قتل وغارت کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے عقب تک پہنچ گئے اور جو عورتیں مسجد کے کچھواڑے پناہ لینے کے لئے جمع تھیں ان میں سے کئی ایک کو اغوا کر لیا گیا۔اور جب احمدی نوجوان عورتوں کی آہ و پکار سن کر اُن کی طرف بڑھے تو دو نو جوانوں کو خود پولیس نے گولیاں چلا کر مسجد کی دیوار کے ساتھ شہید کر دیا۔بعین اس وقت اطلاع ملی کہ قادیان کے محلہ دار الفتوح اور محلہ وار الرحمت پر بھی ہزارہا سکھوں نے حملہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی ان کے حملہ کو کامیاب بنانے کے لئے پولیس نے کرفیو کا اعلان کر دیا چنانچہ اس حملہ میں دو سو کے قریب مسلمان ( احمدی اور غیر احمدی، مرد اور عورتیں، بچے اور بوڑھے) یا تو شہید ہو گئے اور یا لاپتہ ہو کہ ابتک مفقود الخبر ہیں۔شہید ہونے والوں میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک حرم محترم کے حقیقی ماموں مرزا احمد شفیع صابی اسے ه روزنامه الفصل ، صلح بر جنوری به بیش صفحه ۵۰۴ : +1907 سے (پروفیسر ناصر احمد صاحب ابن سرا بعدین صاحب موذن مسجد اقصٰی مراد ہیں (مرتب) *