تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 167
۱۶۵ ہونے کا عذر محض بہا نہ تھا اور غرض یہ تھی کہ ان ایام میں بیرونی دنیا سے قادیان کا تعلق بالکل کٹ کر قادیان کے احمدیوں کو ٹوٹا : درختم کیا جا سکے چنانچہ جیسا کہ بعد کے واقعات بتائیں گے قادیان پہ بڑا حملہ انہی تاریخوں میں ہوا۔یکم اکتوبر بر ۱۹۴۷ - حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالے کا مکان بیت الحمد واقع محلہ دارالا نوار قادیان جس میں حضور کے بعض بچے رہائش رکھتے تھے مری نے زبر دستی تعالی کرا کے اپنے قبضہ میں کر لیا۔۲ اکتوبر ۱۹۴۷ - پولیس نے احمدیوں کی آٹا پیسنے کی چکیاں محکماً بند کرا دیں جس کے نتیجہ میں قادیان کے محصور شدہ ہزاروں احمدیوں کو (جن میں بچھے ، عورتیں اور بوڑھے شامل تھے) کئی دن تک گندم کے دانے اُبال اُبال کر کھانے پڑے اور اس وجہ سے بیشمار لوگ پیچش کی مرض کا شکار ہو گئے۔۱۲ اکتوبر یہ تعلیم الاسلام ڈگری کالج قادیان اور فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان کی عمارت اور سامان پر ملٹری نے جبراً قبضہ کر لیا اور احمدیوں کو زبر دستی باہر نکال دیا۔سکھ میتھوں نے پولیس کی امداد سے محلہ دار الراحت (یہ محلہ دارالرحمت نہیں ہے بلکہ قادیان کی پرانی آبادی کے ساتھ مینوب مغربی بجانب دارالصحت کے قریب ایک اور محلہ ہے، پر حملہ کیا اور (بقیه حاشیه صفحه گذشتہ) معلوم ہوا کہ دشمنوں نے سڑک روک رکھی ہے اور باقاعدہ محاذ بنا رکھا ہے بچنا نچھ تھوڑی دیر کے بعد سامنے سے گولیوں کی بوچھاڑ ہونی شروع ہوئی۔سات پناہ گزین جاں بحق اور متعدد مجروح ہوئے۔اس جتھے سے بچ بچا کر جب یہ ٹرک واہگہ پہنچے تو مشرقی پنجاب کی متعینہ فوجی پکٹ نے انہیں کئی گھنٹے روکے رکھ)۔ایک اطلاع مظہر ہے کہ فوج نے اسکارٹ سے ہتھیار رکھوانے کیمپ میں گولیاں تقریباً ایک گھنٹہ تک چلتی رہیں۔ایک اور اطلاع کے مطابق ان فرکوں کے بعد ۸ اسول لڑکوں نے بھی پناہ گزینوں کو سوار کر لیا تھا۔لیکن ان پر گولیوں کی بے پناہ بارش کی گئی۔دشمن کا حملہ اتنا شدید تھا کہ کسی پناہ گزین کے بیچ کر نکلنے کی امید نہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اترسوں محکمہ ھر کے چار ٹرکوں کے بٹالہ میں روکے جانے پر مغربی پنجاب کی حکومت نے فوجی حکام کے سامنے جب یہ سوال اُٹھایا تو میجر جنرل کمپنی نے جوابد یا تھا کہ کنوائے کے کمانڈر کو سرٹیفیکیٹ کے لئے اصرار کرنا چاہیے تھا۔اس کا یہ مطالبہ جائز ہوتا اور آئندہ کسی ایسے کنوائے کو جس کے پاس سرٹیفکیٹ ہوگا نہیں روکا جائے گا۔میجر جنرل چمنی نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ قادیان کی سٹرک خراب ہے بیچنا نچہ جمعرات کو یہ کنوائے اسی اطمینان کی بناء پر روانہ ہوا تھا ، د روزنامه الفن" هارا غادر اکتوبر بیش صفحه ۶) ۱۳۲۷ 1902 "