تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 162
ایک بائیں بور رائفل اور عزیز مرزا حمید احمد کا ایک پستول لائسینس دکھانے کے باوجود ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔۲۳ ستمبر ۱۹ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے حکم کے ماتحت خاکسار مرزا بشیر احمد عزیز میجر داود گر کی اسکورٹ میں قادیان سے روانہ ہو کہ لاہور آگیا۔میرے پیچھے حضرت صاحب کے ارشاد کے ماتحت مرزا عزیہ احمد صاحب ایم۔اسے مقامی امیر مقرر ہوئے۔۲۴ ستمبر یہ عزیز مرزا ناصر احمد سلمہ ایم۔اے پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان اور تحقیر امیرالمونین ایندہ کے بڑے صاحبزادے کے مکان " النصرة " واقعہ دارالا نوار قادیان کی تلاشی لی گئی مگر کوئی قابل اعتراض چیز یہ آمد نہیں ہوئی۔۲۷ ستمبر ۱۹۴۷ 19 - پولیس نے محلہ دار الشکر قادیان کے متعدد مکانات کی تلاشی لی اور گو کوئی قابل اعتراض چیز بر آمد نہیں ہوئی مگر ہزاروں روپے کے زیورات اور نقدمی اور دیگر اشیاء اه حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی قبل ازیں حسنہ سے مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمدرضا کو بغرض مشورہ آنے کا ارشاد فرما چکے تھے جس پر حضرت قمران انبیاء نے تصور کی خدمت میں لکھا تھا: " مجھے تو حضور نے جب سے قادیان سے بجاتے ہوئے امیر مقررہ فرمایا تھا میں نے اس وقت سے سمجھ لیا تھا اور دل میں عہد کر لیا تھا کہ اب یہ زندگی اور موت کی بازی ہے انشاء اللہ اسے خدا کی توفیق کے ساتھ نباہنے کی کوشش کروں گا اس لئے میں تو صرف اس وقت باہر بھاؤں گا جبکہ حضور کا معتین حکم ہوگا مگر میرا خیال ہے کہ میاں ناصر احمد کو بجاد باہ بھجوا دیا جائے کیونکہ ان کے متعلق قانونی پیچیدگی کا زیادہ اندیشہ ہے " سيد المصلح الموعود کی طرف سے ، تبوک استمبر کو ہدایت پہنچی کہ مسجد مبارک کا قرعہ فوراً ڈال لیا جائے اور اگر مرزا بشیر ہے صاحب کا نام اس قرصہ میں نکل آئے تو انہیں فوراً بھجوا دیا جائے۔اس پر جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں۔آپ کے دل پر بھاری بوجھ پڑ گیا کہ میں کام کی تکمیل سے قبل میدان عمل سے باہر جا رہا ہوں والفضل هر اخاها اکتوبری این صفحه ای اسی پریشانی کے عالم میں آپ نے تصور کی خدمت میں لکھا کہ تصور کا ارشاد ہر حال قابل تسلیم ہے مگر میں اس وقت مجیب ، بعد میں ہوں کیونکہ ایک طرف توحضور والی تفصیلی تسلیم صدر صاحبان کو بتالا تو دی گئی ہے اور بعض دوسرے اصحاب کے علم میں بھی آگئی ہے مگر حسب ہدایت ابھی مساجد میں اعلان نہیں ہوا۔اور میں ڈرتا ہوں کہ عام اعلان کے ہونے اور لوگوں کے اس سکیم کو جذب کر لینے سے قبل میرا یہاں سے جانا گھبراہٹ کا باعث نہ ہو۔۔۔۔مگر بہر حال حضور کا ارشاد مقدم ہے اور میں نے شمس صاحب اور مولوی ابوالعطاء صاحب اور میاں ناصر احمد صاحب کی ایک کمیٹی بنادی ہے کہ وہ اس معاملہ میں رہتے ہیں۔گریہ کیٹی بھی غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ حضرت میاں صاحب کا پاکستان جانا سلسلہ کے مفاد و مصالح کے مطابق ضروری ہے۔تب آپ میجر مزا داؤد احمد صاحب کے اسکورٹ کے ذریعہ پاکستان تشریف اللہ