تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 161 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 161

۱۹۴۷ مره موضع قادر آباد مشمولہ قادیان پر سکھ جتھوں نے حملہ کیا اور پولیس کی امداد سے مغالی کرا لیا۔قادیان میں متعینہ ہندو ملٹری نے ان لڑکوں کی سواریوں میں دخل اندازی شروع کر دی جو پاکستان حکومت کی طرف سے قادیان بھیجوائے جاتے تھے جس کے نتیجہ میں کئی کنوائے جزواً اور ایک کنوائے کلیتہ ہمارے ہاتھ سے چھین لیا گیا۔۲۱ ستمبر ۱۹۴۷ - چوہدری عبدالباری صاحب بی۔اے نائب ناظر بیت المال کو بے بنیاد الزام پر سیفٹی آرڈی نفس کے ماتحت قادیان سے لاہور آتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا اور ان کی پرائیویٹ موٹر کار معہ قیمتی سامان کے ضبط کر لی گئی۔قادیان میں بلا کسی بھائز وجہ کے کرفیو لگا دیا گیا جو شروع میں ۴ بجے شام سے لے کر چھ بجے صبح تک رہتا تھا مگر بعد میں وسیع کر دیا گیا اور پھر تو یہ حال تھا کہ پولیس جب چاہتی تھی کسی مصلحت سے دن کے اوقات میں بھی کرفیو گا دیتی تھی مگر ہندو سکھ ملا آزاد ہوتے تھے کہے ۲۲ ستمبر ۱۹۴۷ئر پولیس اور ملٹری نے حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے مکانات اور دفتر اور خاکسار مرزا بشیر احمد کے مکان کی تلاشی کی اور یہ تلاشی صبح 4 بجے سے لے کر دن کے گیارہ بجے تک جاری رہی اور ہمارے مکانات کے تمام حصوں اور ملحقہ رستوں میں مسلح پولیس اور ملٹری کا پہرہ لگا دیا گیا۔تلاشی میں ٹرنکوں ، پیٹیوں اور الماریوں وغیرہ کے قفل توڑ توڑ کر ہر چیز کو غور سے دیکھا گیا اور بعض کمروں کے فرشوں کو اُکھیڑا کھیڑ کر بھی تستی کی گئی کہ وہاں کوئی قابل اعتراض چیز تو دہائی ہوئی نہیں۔پولیس اور ملٹری جیسا کہ قاعدہ ہے اپنی تلاشی دینے کے بغیر اور زنانہ مکانوں میں پردہ کرانے کے بغیر جس حصہ میں چاہتی تھی گھس بھاتی تھی۔مگر کوئی قابل اعتراض چیز بر آمد نہیں کرسکی۔البینہ لایسنس والا ہتھیار جو بھی نظر آیا اُسے اُٹھا کر لے گئی۔چنانچہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کی ایک شارٹ گن ، سخان محمد احمد خان کی ے کرفیو کا نفاذ در اصل قادیان پر براہ راست تشدد کا آغاز تھا جس کا پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیوں اور دوسنتر مسلمانوں کو صبح اور مغرب و عشاء کی نمازیں مسجدوں میں ادا کرنے کی عملاً ماتحت کر دی گئی ، " الفضل " (لاہور) کار صلح (جنوری ۱۳۲۷ ه مش صفحه ۴ :