تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 159 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 159

۱۵۹ چونکہ ہمارے پاس زیادہ تر جیپ گاڑیاں ہی تھیں اس لئے قادیان کے احمدیوں کی نقل و حرکت بالکل بند ہو گئی۔۱۱ - ۱۲ ستمبر نہ۔ماحول قادیان کے بہت سے دیہات خالی ہو کر قادیان پہنچ گئے جس سے بالآخر قادیا میں پناہ گزینوں کی تعداد ۵۰ ہزار تک جا پہنچی اور قادیان کا ہر مکان اور ہر باغ ہر میدان اور ہر راستہ عملاً پناہ گزینوں کا کیمپ بن گیا۔ستمبر یہ قادیان میں متعینہ فوج نے باہر جانے والے پناہ گزینوں کی تلاشی شروع کر دی اور بلد عبد اس تلاشی کے دوران میں ٹینس والے اسلحہ کو بھی چھیننا شروع کر دیا ہے ستمبر یہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے، ایم ایل اسے ناظر مقامی تبلیغ کو بے بنیاد الزام پر دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا ہے ار ستمبر ر - سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ جماعت احمدیہ کو بے بنیاد الزام پر محمد اه نانا اور امام جماعت احمد بے کے دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا ہے ه مندرجہ ذیل مقامات خاص طور پر مسلم پناہ گزینوں کی رہائش گاہ بنے ہوئے تھے۔نصرت گرلز ہائی سکول ، تعلیم الاسلام ہائی سکول، تعلیم الاسلام پرائمری سکول، دارالا نوار کے بعض مکانات ، برآمده تعلیم الاسلام کالج حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے استمبر عاشر کو مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابو العطاء صاحب کے ساتھ ان جگہوں کا دورہ بھی کیا ؟ ه حضرت مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی نے استمبر کو حضرت سید نا المصلح الموعود کی خدمت میں لکھا کہ قادیان کی نئی مٹی جو آج آئی ہے راجپوتوں کی ہے اور بلا استناد سب کی سب ہندو ہے یعنی کی پیٹی بھی اور قیت افسر بھی اور سپاہی بھی اور مزید یہ ہے کہ کیپٹن وہی ہے جو گورداسپور میں تھا اور سٹھیالی میں احمدیوں کے مخلاف بہت کچھ کا روائیاں کرتا رہا ہے۔ملٹری کی درجہ بدرجہ تبدیلی میں مجھے ایک سوچی ہوئی تدبیر کا پہلو نظر آتا ہے۔سب سے پہلی ملٹری کا افسر بھی مسلمان تھا اور سپاہی بھی۔دوسری ملڑی کا افسر غیر مسلم تھا۔مگر سچا ہی سب کے سب مسلمان تھے میری ملٹری کا افسر غیر مسلم اور سپاہی قریباً نصف مسلمان تھے اور نصیبت غیر مسلم۔اور اب جو ملٹری آئی ہے اس کا افسر بھی غیر مسلم ہے ، درسب کے سب سپاہی بھی۔غالباً پولیس نے حکام میں خلاف رپورٹیں کر کے یہ صورت حال پیدا کی ہے۔ے اس تاریخ کو جمیعہ تھا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حالات کی نزاکت کے مد نظر ہدایت فرمائی کہ جمعہ ہر محلہ کی مسجد میں ہوگا۔مسجد اقصٰی میں مولانا شمسی صاحب نے جمعہ پڑھایا ہ چودھری صاحب کو سری گوبند پور کی پولیس نے قادیان میں آکر گرفتار کیا اور الزام یہ رکھا کہ آپ نے موضع ڈھپٹی میں سابق ملٹری کی مصیبت میں کسی سکھ کو گولی کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ یہ محض ایک بے بنیاد بات تھی ؟ ے حضرت شاہ صاحب نے اپنی کتاب ”حیات الآخرة “ میں اپنے زمانہ اسیری کے بعض نہایت روح پرور واقعات لکھتے ہیں ؟