تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 148 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 148

۱۴۸ اس وقت تک اُن کی کارروائی غیر آئینی کاروائی ہے اور ہم اسے کسی صورت میں بھی تسلیم نہیں کریں گئے۔مشرقی پنجاب سے اسلام کا نام مٹا دیا گیا ہے۔ہزاروں ہزار مسجدیں آج بغیر نمازیوں کے ویران پڑی ہیں جن میں جھوٹے کھیلے جاتے ہیں۔شہراہیں پی جاتی ہیں۔بدکاریاں کی جاتی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ کم سے کم ہم جب تک ہماری جان میں جان ہے مشرقی پنجاب میں قادیان کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند رکھیں۔اسلام کو بغیر قربانی کے ختم نہیں ہونے دینا چاہئیے۔اسلام تو پھر جیتے گا ہی ، احمدیت تو پھر بھی غالب ہی آئے گی۔لیکن ہماری بدقسمتی ہو گی اگر ہم اپنے ہاتھوں سے اسلام کا جھنڈا چھوڑ کر بھاگیں میں اگر قادیان سے باہر ہوں تو صرف اس لئے کہ جماعت نے کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جماعت کی تنظیم اور اس کے کام چلانے کے لئے جب تک امن نہ ہو مجھے اور بعض ضروری دفاتر کو قادیان سے باہر رہنا چاہئیے تاکہ دنیا کی جماعتوں کے ساتھ مرکز کا تعلق رہے لیکن اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ جماعت کے تو جوان بخدا نخواستہ اس قربانی کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں جس کا میں اُوپیہ ذکر کر چکا ہوں تو پھر اُن کو صاف لفظوں میں یہ کہہ دینا چاہئیے۔ہم ان کو باہر بلا لیں گے اور خود ان کی جگہ بھائیں دینے کے لئے پہلے بھائیں گے۔ہمارا یا ہر آنا اپنی بھانوں کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ سلسلہ کے کام کو پھیلانے کے لئے ہے۔اگر ہماریا باہر آنا بعض لوگوں کے ایمانوں کو متزلزل کرنے کا موجب ہو تو ہم سلسلہ کی شوریٰ کے فیصلہ کی بھی پر وا نہیں کریں گے اور ان لوگوں کو جن کے دلوں میں ایمان کی کمزوری ہے اس کام سے فارغ کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل پہ بھروسہ رکھتے ہوئے خود اس کام کو شروع کر دینگے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قادیان کے اکثر نوجوانوں میں کمزوری پائی جاتی ہے۔مجھے کثرت کے ساتھ نوجوانوں کی یہ چھٹیاں آرہی ہیں کہ وہ دلیری کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ ہر قربانی پیش کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔خود میرے بعض بیٹوں اور بعض دوسرے عزیزوں کی مجھے اس قسم کی پیٹھیاں آئی ہیں کہ گو ان کا نام قرعہ کے ذریعہ باہر آنے والوں میں نکلا ہے مگر ان کو اجازت دی جائے کہ وہ قادیان میں رہ کر خدمت کر یں۔یہی وہ لوگ ہیں جو پختہ ایمان والے ہیں در پی دو الگ ہیں جو احدی اور اسلام کے جھنڈے کو دنیامیں بند کریں گے خواہ اسے جاہیں خواہ زندہ ہیں۔