تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 149
۱۴۹ چاہیے کہ صفائی کے ساتھ اور بار بار حکومت کو جتاتے رہو کہ ہم حکومت کے وفادار ہیں۔اور ہم ایک اچھے شہری کے طور پر اس ملک میں رہنے کا وعدہ کرتے ہیں اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو کی طرف سے اعلان ہو رہے ہیں وہ بچے ہیں جھوٹے نہیں۔اس لئے ہم ان اعلانوں پر یقین رکھتے ہوئے قادیان میں بیٹھے ہیں۔اگر ان اعلانوں کا کچھ اور مطلب ہے تو ہمیں کہہ دو کہ قادیان سے پھلے بھاؤ۔لیکن اگر مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو کے بیانات صحیح ہیں تو پھر ان کے مطابق عمل کرو اور پُر امن شہریوں کو دق نہ کرو۔اس طرح بار بار اُن پر حجت تمام کرتے رہو اور قید و بند اور قتل کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ایکان کا ثبوت دو اور خدا تعالے پر یقین رکھو کہ اول تو فتح اور نصرت کے ساتھ وہ تمہاری مدد کرے گا۔لیکن اگر تم میں سے بعض کے لئے قید و بند یا قتل مقدر ہے تو خدا تعالیٰ تمہیں ابدی زندگی بخشے گا اور اپنے خاص شہداء میں جگہ دے گا اور کون کہ سکتا ہے کہ اس کی ایسی موت اس کی زندگی سے زیادہ شاندار نہیں۔اللہ تعالیٰ تم لوگوں کا حافظ و ناصر ہو اور تم کو ہر تنگی اور ترشی اور مصیبت اور ابتلا میں صبرا در توکل اور ایثار کی توفیق بخشے اور تم اپنا ایمان نہ صرف خدا تعالیٰ کے سامنے سلامت لے جاؤ بلکہ اس کو نہایت خوبصورت اور حسین بنا کر خدا تعالے کی خدمت میں پیش کر دو تا خدا تعالیٰ تم سے اور تمہاری اولادوں سے (اگر کوئی ہیں) اس سے بھی زیادہ نیک سلوک کرے جتنا تم ان کی زندگی میں ان سے کر سکتے تھے " سے حضرت امیر المومنین کے مندرجہ بالا مضمون نے ہو دیتی غیرت ، اولوالعرمی اور مردانگی و شجاعت کا شاہکار تھا، احمدیوں کے لہو کو اور بھی گرما دیا اور وہ تقدس اسلام کے لئے کٹ مرنے کو پہنے سے بھی زیادہ آمادہ وتیار ہو گئے۔اس حقیقت کے ثبوت میں بطور نمونہ ایک احمدی خاتون کے قلبی تاثرات ملاحظہ ہوں۔محترمہ جیبہ بیگم صاحبہ نے اپنے خاوند محترم در ولیش خواجہ محمد اسمعیل صاحب احمدی آن بیٹی کو لکھا :۔کل حضرت امیر المومنین کا ایک مضمون رجماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت “ الفضل بر اکتوبر کر نا شائع ہوا ہے وہ آپ کو بھیج رہی ہوں۔گو پہلے بھی میں نے آپ کو قا دیان " الفضل" لم را خاء / اکتوبر ۳۳۶ بهش نصفحه ۳ و ۴ به