تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 4 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 4

خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے قادیان دار الامان سے پاکستان کی نوزائیدہ مسلم مملکت کی طرف ہجرت فرمائی۔حضور سوا بجے دوپہر حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علیخاں صاحب کی کوٹھی دار السلام" سے روانہ ہوئے اور ساڑھے چار بجے شام بخیریت شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت لاہور کی کوٹھی ( واقع ۳ ٹمپل روڈ) میں پہنچے۔اور اس طرح تحریک احمدیت کا دور جدید مشروع ہوا۔جیسا کہ حضور نے خود ارشاد فرمایا :- آج ہر احمدی سمجھ لے کہ اب حدیث پر ایک نیا دورہ آیا ہے مذاہب عالم کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ ہجرت --- ایک لازمی چیز رہی ہے لیکن جماعت احمدیہ کو اس بارے میں دو خصوصیتیں حاصل ہیں۔(1) اس ہجرت سے قریباً ترین برس قبل ۸ ۱ ستمبر ۱۹۹۴ کو حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود پر داغ ہجرت “ کا الہام نازل ہوا جس میں ہجرت کی واضح خبر دی گئی تھی۔(۲) اس خبر میں ہجرت کے لئے "داغ" کا پر حکمت لفظ اختیار کیا گیا تھا جو اُردو زبان میں زخم ، گھاؤ ، جراحت اور رنج اور صدمہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔جس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جماعت احمدیہ کو اپنے دائمی مرکز - قادیان - سے جن حالات میں ہجرت کرنا پڑے گی وہ نہایت ہی خوفناک، پُر آشوب اور تکلیف دہ ہوں گے۔چنانچہ سچ مچ ایسا ہی وقوع میں آیا ۴ار اگست ۹۴۷ کو پاکستان کا قیام ہوا اور ساتھ ہی پورا ہندوستان خصوصاً مشرقی پنجاب ہندو مسلم فسادات کی آماجگاہ بن گیا اور رفتہ رفتہ قادیان اور اس کے گرد و نواح میں بھی فسادات کے شعلے اٹھ کھڑے ہوئے اور مظلوم اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام ہونے لگا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثاني المصلح الموعود نے اللہ تعالے کی عطا کر وہ حیرت انگیز فراست و ذہانت سے ان تشویشناک حالات کے ہولناک نتائج کا جائزہ لیا اور سب سے پہلے جماعت کا مرکزی خزانہ بذریعہ ہوائی جہانہ پاکستان منتقل کر دیا۔اور بعد ازاں حضرت ام المومنین اور خواتین مبارکہ کو بسوں کے ذریعہ لاہور بھجوا دیا کوالا له الفضل " دار امضاء / اکتوبر ۱۳۳۶ ش صفحه ۲ کالم ۳-۴ به لے " تشمی الا زبان “ جون جولائی منشاء صفحہ ۱۴ ، " بولو آف ریلیجنز اردو جون ۱۹۱۳ صفحه ۲۲۳۔" فرہنگ آصفیہ" زیر لفظ " داغ " اور