تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 146 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 146

۱۴۹ ضلع گجرات) کیوں آئی ، کسی طرح آئی ؟ بس سمجھ لیجئے خدا کی کسی حکمت کے ماتحت میرا یہاں آنا ہوا۔میرے جیسی گنہگار پر خدا تعالیٰ کے اتنے بڑے احسانات !! افت اگر میرے جسم کا ذرہ ذرہ بھی اس کے شکریہ میں دن رات سر بسجود رہے تو اس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں ہو سکتا۔آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں جب سے یہاں آئی ہوں۔کس طرح دن گزرتے ہیں اور کس طرح ستارے گنتے گنتے راتیں کٹتی ہوں گی۔لیکن زبان سے اگر کوئی لفظ نکلتا ہے تو یہی کہ اسے قادیان کی لیتی تجھ پر لاکھوں سلام! اور اسے قادیان میں رہنے والے جانبازو ! تم پر لاکھوں درود - دنیوی حکومتیں تو تمہیں تباہ کرنے کے لئے تیر اور ہم تیار کرتی ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ میل تک بجا کہ رہ جاتے ہیں۔مگر ہم انشاء اللہ وہ ہم تیار کریں گے جو آسمان سے برسیں گے اور زمینی دشمنوں کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔اے خدا تو ایسا ہی کہ۔یہاں کے مفصل حالات تو پھر کبھی سہی مگر یہ تکلیف کہ قادیان کے متعلق ہمیں کوئی خبر نہیں ملتی، ایسی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔اگر کوئی ذریعہ ایسا ہو کہ قادیان سے لاہور تک خط آسکے تو ضرور مندرجہ ذیل پتہ پر لکھ کہ ڈال دیں تا کہ میری ہر وقت کی تشویش دور ہو۔کاش ! خدا آسمان سے کہے کہ دنیا کے پردے پر میرے کچھ معصوم بند سے رہتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں۔وہ بیکس ہیں، وہ بے بس ہیں۔کوئی ان کا روزگار نہیں لیکن میں ان کا حامی ہوں۔میں ان کا محافظ ہوں، ناصر ہوں، مدد گار ہوں۔اسے میرے فرشتو ! تم دنیا میں جاؤ اور ان میرے بندوں کے بازو بن جاؤ ، تم ان کی تلواریں بن جاؤ جس سے دہ دشمن کی صحت کو کاٹ کر رکھ دیں۔اے خدا ایسا ہی کہ۔ہم آسان سے خدا کی رحمت کو کھینچنے والے نہیں“ سید تا اصلح الموعود کا ایک پُر جوش سینا الصلح الموعود ن ا ا ا اکتو بر این کے اور ولولہ انگیز مضمون اور اس کا اثر باسل ابتدائی ایا میں جبکہ قادیان پر آخری فیصلہ کن حملہ کا آغاز ہو چکا تھا مگر ابھی پاکستان میں اس کی خبر نہیں پہنچی تھی ایک ولولہ انگیز مضمون لکھا جس کا عنوان تھا جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت حضرت