تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 142
۱۴۲ بسر کریں گے نوشی میں بدل دیا۔بیشک ہم اس وقت نہایت کس مپرسی کی حالت میں بے یارو مددگار ہیں۔بچے بیمار ہیں نہ زاد راہ ہے۔متوکل علی اللہ اب لاہور سے کسی بہت کو نکل جائیں گے اور صمیم قلب سے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ آپ جو عظیم الشان مقصد رکھتے ہیں اللہ تعالے اس کو نواند سے اور آپ کے عزم و استقلال و پایہ ثبات کو ثابت قدم رکھے اور توقع رکھتے ہیں کہ ہر وہ گھڑی جس میں زندگی اور موت کا سوال ہو آپ صف اول میں کھڑے ہوں گے“ (۳۰ر اتحاد اکتوبر پر مش) ۲۰۔محترمہ امتہ اللطیف صاحبہ رتن باغ لاہور کا خط اپنے والد عبدالرحیم صاحب مالک دیانت سوڈا واٹر فیکٹری قادیان کے نام :- جب " جب کنوائے قادیان سے آئے تو نہایت مضطربانہ حالت ہو جاتی ہے۔تک ہم کو قادیان نہ ملے ہمارے لئے دنیا اندھیر ہے۔باوجود فراخ ہونے کے تنگ ہے۔جلد اللہ تعالے کسی قربانی کو نوازے اور ہماری مشکلات حل ہوں۔امیر الشکور کو اپنا گھر معلوم نہیں ہوتا۔ہر وقت روتی رہتی ہے۔آپ کو اتنا یاد نہیں کرتی جتنا قادیان کو " (۲ نبوت / نومبر مش) ۲۱- سید عبدالرشید صاحب (جیسے پوشش ہاؤس) کا مکتوب اپنے فرزند سید سعید احمد صاحب کے نام : " یکیں تو خود قادیان سے کہیں جانے میں خوش نہ تھا مگر آپ کے اصرار پر اور پھر آپ کی والدہ اور ہمشیرگان کی قیام گاہ کا انتظام کرنے کے لئے پھل دیا ورنہ میں بھی آپ کے ہمراہ ہی رہنے میں خوش تھا۔ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود اور خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشادات سے یہ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ وقت قریب آتا جا رہا ہے کہ جب خدا کے دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں کا مطالبہ شروع ہو گا مگر ہماری بدقسمتی سے ہم نے اس وقت کو ابھی دور سمجھا حالانکہ وہ دروازہ پر تھا۔۔۔۔پس اب صرف - ایک اور ایک راستہ ہی ہے جس سے ہمارا پیارا خدا خوش ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے - المیه صاحبه شیخ خورشید احمد صاحب نائب مدیر العضل دیوه بنه