تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 141
۱۴۱ ۱۷- محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ نے موضع بانٹ اُونچے ضلع گوجرانوالہ سے اپنے شوہر محمد شریف صاحب مولوی فاضل واقف زندگی کو حسب ذیل خط لکھا :- یہ پڑھ کر کہ آپ نے اپنا نام ہمیشہ رہنے کے لئے دے دیا ہے، بہت خوشی ہوئی۔اللہ تعالٰی آپ کو کامیابی عطا فرمائے اور آپ کا حافظ و ناصر ہو۔بخدا کرے کہ جلد کی قادیان ہمارا ہو جائے اور ہم جلدی آکر اس کو آباد کریں۔(آمین) (۲۸ امضاء / اکتوبر میش) محترمہ امتہ المجید صاحبہ رتن باغ لاہور کا خط جو انہوں نے اپنے والد چوہدری وزیر محمد صاحب پٹیالوی دار الفتوح قادیان کے نام لکھا :- در ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے ہیں۔اماں جان سست رہتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ایک تو کھانے کی سخت تکلیف ہے۔کوئی چیز نہیں ملتی۔لانے والا کوئی ہمارے پاس نہیں اس وجہ سے کچھ بچے بیمار ہیں۔ہم تاریخ میں صحابہ کے کارنامے پڑھا کرتے تھے ہم خوش قسمت ہیں اور وہ نظارہ ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔میں آپ کو ہر کنوائے میں خط لکھتی رہی ہوں۔لیکن آپ کی طرف سے اتنے عرصہ میں ہمیں ایک بھی خط نہیں ملا۔یہ تکلیفیں ہم مقدا شت کی رضا کے لئے برداشت کر رہے ہیں اور اگر اور بھی تکلیفیں اٹھانی پڑیں تو ہم خوشی شود است کریں گے۔جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمار سے ابا جان خدا کی رضا کے لئے سلسلہ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں تو ہماری یہ تکلیفیں خوشی میں بدل جاتی ہیں۔آپ ہمارا کوئی کسی قسم کا فیکر بنہ کریں۔خوب دُعائیں کریں اور خدا کی رضا حاصل کریں۔مخداوند تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔اور ہم بھی ہر وقت دُعاؤں میں لگی رہتی ہیں۔" (۲۹ اتحاد اکتوبر برا همیش) -۱۹ مکرم محمد طفیل صاحب تنگلی نے محمد یعقوب صاحب، جلال الدین صاحب ، محمد صادق صاحب اور محمد صدیق صاحب کو ذیل کا مکتوب ارسال کیا :- " آپ کا نوازش نامہ ہمارے لئے باعث صد مسرت ہوا۔اور ہمارے مضموم دلوں کی آپ کے اس نو ید جانفزا نے کہ ہم زیار محبوب میں شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے درویشانہ زندگی