تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 140 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 140

۱۴۰ نہیں۔شعائر اللہ ہمارے پاس ہیں اور میری تمہیں نصیحت ہے کہ تمہارے بیتے جی شعائر اللہ تک دشمن نہ آئے ہیں اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے اور تم قطعا پر واہ نہ کرو کہ تمہارے بعد ہمارا کیا بنے گا۔جب سے دار الامان پر حملے کا سنا ہے سخت بیقراری اور بے چینی ہے اور میرا تو پیشہ ہی رونا ہو گیا ہے " ( ۲۴ اخاء / اکتوبر ۳۳ میش) ۱۵- عبدالمجید صاحب نیازہ نے اپنے والد محترم عبد الرحیم صاحب ( دیانت سوڈا واٹر فیکٹری کو اپنے ایک خط میں یقین دلایا کہ و پیارے اور محترم والد صاحب۔آپ ہمارا کسی قسم کا فکر نہ فرما دیں۔ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔ہاں قسم ہے مجھے ذات پاک کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ کسی طرح قادیان پہنچوں " ۲۴ را خاد/ اکتوبر ۳ ریش) ایک اور خط میں لکھا :- ۶۱۹۴۷ " آپ قادیان میں رہیں تو یہ ہمارے لئے باعث فخر ہے اور خوشی کا موجب ہے “ مسعود احمد خاں صاحب دہلوی بی۔اے بی ٹی واقف زندگی نے اپنے ہیر اور اکثر مسعود احمد فانا ات دیوی کو نکھا۔میرا پاسپورٹ دہلی میں نہیں بن سکا۔اب انشاء اللہ لاہور سے بنواؤں گا۔میری شامت اعمال کی وجہ سے میں اس سعادت سے محروم کر دیا گیا کہ میں بھی مرکز کی حفاظت سے نوازا جاؤں۔آپ تینوں صاحبان مسعود احمد صاحب بی۔اسے واقف زندگی - مولود احمد صاحب بی۔اسے واقف زندگی اور مقصود احمد صاحب واقف زندگی) واقعی قابل مبارکباد ہیں کہ اس نعمت سے سرفراز کئے گئے“ (۲۵ ایجاد اکتوبر ۳۳ ره ش) لے سابق ٹیچر سیکنڈری سکول کماسی حال پر و فیسر تعلیم الاسلام کا لج ریوه ، کے مقصود احمد خان صاحب کا بیان ہے کہ " مکرم مسعود احمد صاحب دفتر وکالت تبشیر ( قادیان) کی ہدایت کے ماتحت دہلی مغربی افریقہ کے لئے پاسپورٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے۔اس دوران میں فسادات شروع ہو گئے جس کی وجہ سے وہاں ان کو تکالیف کا سامنا ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ واہوں پہنچ گئے۔لاہور پہنچ کر یہ خط تحریر کیا "۔کے سابق نام سود خانی -